ثابت نہ ہوسکاکہ جسم آسمان پر چلا گیا۔ کیاجولوگ رات کو یا دن کوسوتے ہیں تو اُن کا جسم آسمان پر چلا جایا کرتا ہے۔ سونے کی حالت میں جیساکہ ابھی میں بیان کر چکا ہوں صرف تھوڑی مدّت تک روح قبض کرلی جاتی ہے جسم کے اٹھائے جانے سے اس کو علاؔ قہ ہی کیاہے۔ ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ نصوص ظاہرہ متواترہ صریحہ قرآن کریم نے توفّی کے لفظ کو صرف روح تک محدود رکھا ہے یعنی روح کو اپنے قبضہ میں کرلینا اورجسم کوبیکار چھوڑ دینا۔ اور جبکہ یہ حال ہے تو پھر توفّی کے لفظ سے یہ نکالنا کہ گویاخدائے تعالیٰ نے نہ صرف مسیح ابن مریم کی روح کو اپنی طرف اٹھایا بلکہ اس کے جسم عنصری کو بھی ساتھ ہی اٹھالیا۔ یہ کیساسخت جہالت سے بھراہوا خیال ہے جو صریح اوربدیہی طورپر نصوص بیّنہ قرآن کریم کے مخالف ہے۔قرآن کریم نے نہ ایک بار نہ دوبار بلکہ پچیس بار فرما دیا کہ توفّی کے لفظ سے صرف قبض روح مراد ہے جسم سے کچھ غرض نہیں۔پھراگر اب بھی کوئی نہ مانے تو اس کو قرآن کریم سے کیا غرض۔ اس کو تو صاف یہ کہنا چاہیئے کہ میں اپنے چند موہومی بزرگوں کی لکیر کو کسی حالت میں چھوڑنانہیں چاہتا۔
پھر قرآن کریم کے بعد حدیثوں کامرتبہ ہے سوتقریبًا تمام حدیثیں تصریح کے ساتھ قرآن کریم کے بیان کے موافق ہیں اور ایک بھی ایسی حدیث نہیں جس میں یہ لکھاہوکہ وہی مسیح ابن مریم اسرائیلی نبیؔ جس کو قرآن شریف مارچکا ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی پھر دنیامیں آئے گا۔ ہاں بار بار لکھاہے کہ ان اسرائیلی نبیوں کے ہم نام آئیں گے۔ سچ ہے کہ حدیثوں میں درج ہے کہ ابن مریم آئے گا لیکن انہیں حدیثو ں نے حلیہ میں اختلاف ڈا ل کر اور آنے والے ابن مریم کو اُمتی ٹھہرا کر صاف بتلادیا ہے کہ یہ ابن مریم اَور ہے۔ اورپھر اگر اس قسم کی حدیثوں کی تشریح کے لئے جو متنازعہ فیہ ہیں دوسری حدیثوں سے مدد لینا چاہیں تو پھر کوئی ایسی حدیث نہیں ملتی جس سے یہ ثابت ہوکہ گذشتہ نبیوں میں سے کبھی کوئی نبی بھی دنیا میں آئے گا۔ ہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُن کے مثیل آئیں گے اور