کے لفظ کو جو محل متنازعہ فیہ میں یعنی مسیح کی وفات کے متعلق ہے تیئیس جگہ ایک ہی معنوں پراطلاق کر کے ایسا کھو ل دیا ہے کہ اب اس کے ان معنوں میں کہ روح قبض کرنا اور جسم کو چھوڑ دینا ہے ایک ذرہ شک و شبہ کی جگہ نہیں رہی۔ بلکہ یہ اول درجہ کے بیّنات اور مطالب صریحہ ظاہرہ بدیہہ میں سے ہوگیا جس کو قطع اور یقین کا اعلیٰ مرتبہ حاصل ہے جس سے انکار کرنا بھی اول درجہ کی نادانی ہے۔ اب قرآن کریم میں اس لفظ کی تشریح کرنے میں صرف دو سبیل ہیں تیسرا کوئی سبیل نہیں۔ (۱) دائمی طورپر روح کو قبض کرکے جسم کو بیکار چھوڑدینا۔ جس کا دوسرے لفظوں میں اِمَاتَت نام ہے یعنی مار دینا۔ (۲) دوسرے کچھ تھوڑی مدّت کے لئے روح کا قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا۔ جس کا دوسرے لفظوں میں اِنَامَت نام ہے۔ یعنی سُلا دینا۔ لیکن ظاہرہے کہ محل متنازعہ فیہ سے دوسرے قسم کے معنے کو کچھ تعلق نہیں۔ کیونکہ سونا اور پھر جاگ اُٹھنا ایک معمولی بات ہے۔ جب تک انسان سویا رہا روح اس کی خدائے تعالیٰ کے قبضہ میں رہی اورجب جاگ اُٹھا تو پھرروح اس جسم میں آگئی جو بطور بیکارچھوڑا گیاؔ تھا۔ یہ بات صفائی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ جبکہ توفّی کے لفظ سے صرف روح کاقبضہ میں کر لینا مراد ہے بغیر اس کے جو جسم سے کچھ سروکار ہو بلکہ جسم کابیکار چھوڑدینا توفی کے مفہوم میں داخل ہے تو اس صورت میں اس سے بڑھ کر اَور کوئی حماقت نہیں کہ توفی کے یہ معنے کئے جائیں کہ خدائے تعالیٰ جسم کو اپنے قبضہ میں کرلیوے کیونکہ اگر یہ معنے صحیح ہیں تو نمونہ کے طور پر قرآن کریم کے کسی اور مقام میں بھی ایسے معنے ہونے چاہیئیں مگر ابھی ہم ظاہر کرچکے ہیں کہ قرآن کریم اول سے آخر تک صرف یہی معنے ہریک جگہ مراد لیتا ہے کہ روح کو قبض کرلینا اورجسم سے کچھ تعلق نہ رکھنا بلکہ اِس کو بیکار چھوڑ دینا۔ مگر فرض کے طورپر اگر مسیح ابن مریم کے محل وفات میں دوسرے معنے مراد لیں تو اُن کا ماحصل یہ ہو گاکہ مسیح کچھ مدّت تک سویا رہااور پھرجا گ اُٹھا۔پس اس سے تو