یہی تو ہے کہ ہمیں اے ہمارے خدا نبیوں اور رسولوں کا مثیل بنا۔اور پھر حضرت یحییٰ کے حق میں فرماتا ہے3 ۱ یعنی یحییٰ سے پہلے ہم نے کوئی اس کا مثیل دنیا میں نہیں بھیجا جس کو باعتبار ان صفات کے یحییٰ کہاجائے یہ آیت ہماری تصدیق بیان کے لئے اشارۃ النص ہے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اس جگہ آیت موصوفہ میں قبل کی شرط لگائی بعد کی نہیں لگائی تامعلوم ہو کہ بعد میں اسرائیلی نبیوں کے ہم ناموں کے آنے کا دروازہ کھلا ہے جن کانام خدائے تعالیٰ کے نزدیک وہی ہوگاجو اُن نبیوں کا نام ہوگاجن کے وہ مثیل ہیں یعنی جو مثیل موسیٰ ہے اس کانام موسیٰ ہوگا اور جو مثیل عیسیٰ ہے اس کا نام عیسیٰ یا ابن مریم ہوگا۔ اور خدائے تعالیٰ نے اس آیت میں ِ َسمی کہا مثیل نہیں کہا تا معلوم ہوکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ جو شخص کسی اسرائیلی نبی کا مثیل بن کر آئے گا وہ مثیل کے نام سے نہیںؔ پکاراجائے گا بوجہ انطباق کلّی اسی نام سے پکارا جائے گا جس نبی کا وہ مثیل بنکر آئے گا۔
اور مسیح ابن مریم کی وفات کے بارہ میں اگر خدائے تعالیٰ قرآن شریف میں کسی ایسے لفظ کو استعمال کرتا جس کو اس نے مختلف معنوں میں استعمال کیا ہوتا تو کسی خائن کو خیانت کرنے کی گنجائش ہوتی۔سوخیانت پیشہ لوگوں کا خداتعالیٰ نے ایسا بندوبست کیا کہ توفّی کے لفظ کو جو حضرت عیسیٰ کی وفات کے لئے استعمال کیا گیا تھا پچیس جگہ پر ایک ہی معنی پر استعمال کیا اور اس کو ایک اصطلاحی لفظ بنا کر ہریک جگہ میں اس کے یہ معنے لئے ہیں کہ روح کو قبض کر لینا اور جسم کو بے کار چھوڑ دینا۔تا یہ لفظ اس بات پر دلالت کرے کہ روح ایک باقی رہنے والی چیز ہے جو بعد موت اور ایسا ہی حالت خواب میں بھی خدائے تعالیٰ کے قبضہ میں آجاتی ہے اور جسم پر فنا طاری ہوتی ہے مگر روح پر نہیں۔ اور چونکہ یہی معنی بالالتزام ہریک محل میں جہاں توفی کا لفظ آیا ہے لئے گئے اوران سے خروج نہیں کیاگیا اس لئے یہ معنے نصوص صریحہ بیّنہ ظاہرہ قرآن کریم میں سے ٹھہر گئے جن سے انحراف کرنا الحاد ہوگا کیونکہ یہ مسلّم ہے کہ النصوص یحمل علٰی ظواھرھا۔ پس قرآن کریم نے توؔ فّی