نصوص کے مطابق ہوں تو پھر گویا وہ یقین نورٌ علٰی نور ہے جس سے عمدًا انحراف ایک قسم کی بے ایمانی میں داخل ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ جو حدیثیں اس اعلیٰ درجہ کے ثبوت کے برخلاف ہوں گی تو اگر ہم اُن کو غلط نہ کہیں اور نہ اُن کا موضوع نام رکھیں تو زیادہ سے زیادہ نرمی ہماری اُن حدیثوں کی نسبت یہ ہو گی کہ ہم اُن کی تاویل کریں۔ ورنہ حق ہمارا تو یہی ہے کہ اُن کو قطعی طور پر ساقط الاعتبار سمجھیں۔بعض یہ وہم پیش کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں موت مسیح کے بارے میں صرف توفی کالفظ موجود ہے مگر لُغت میں یہ لفظ کئی معنوں پر آیا ؔ ہے۔سو اس وہم کا جواب یہ ہے کہ کلام تو اِس بات میں ہے کہ یہ لفظ قرآن کریم میں کئی معنوں پر آیا ہے یا ایک معنی پر۔ دراصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے بعض الفاظ لغت سے لے کر اصطلاحی طور پر ایک معنی کے لئے خاص کردئے ہیں۔ جیسے صوم صلٰوۃ رحمانیّت رحیمیّت توفی۔ اور ایسا ہی اللہ کا لفظ۔اورکئی اَور الفاظ۔ سو اصطلاحی امر میں لغت کی طرف رجوع کرنا حماقت ہے۔ قرآن شریف کی قرآن شریف سے ہی تفسیر کرو اور دیکھو کہ وہ ایک ہی معنیٰ کا التزام رکھتا ہے یا متفرق معنی لیتا ہے۔ اور اقوال سلف و خلف درحقیقت کوئی مستقل حجت نہیں اور اُن کے اختلاف کی حالت میں وہ گروہ حق پر ہو گا جن کی رائے قرآن کریم کے مطابق ہے۔اگر یہ اقوال رطب ویابس جو تفسیروں میں لکھے ہیں کچھ استحکام رکھتے تو اِن تفسیروں میں اقوال متضادہ کیوں درج ہوتے۔ اگرماخذ اجماع کا یہی اقوال متضادہ ہیں تو حقیقت ا جماع معلوم شد۔ اب ہم اس وصیت میں یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ قرآن شریف اپنے زبردست ثبوتو ں کے ساتھ ہمارے دعوے کا مصدّق اور ہمارؔ ے مخالفین کے اوہام باطلہ کی بیخ کنی کررہا ہے اور وہ گذشتہ نبیوں کے واپس دنیا میں آنے کا دروازہ بندکرتا ہے۔ اور بنی اسرائیل کے مثیلوں کے آنے کا دروازہ کھولتا ہے۔ اُسی نے یہ دعاتعلیم فرمائی ہے ۔اس دعا کا ما حصل کیا ہے