بھائیو! کیوں کھسیانے بن کر بیہودہ باتیں کرتے ہو اور ناحق اپنے ذمہ گناہ لیتے ہو۔ خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں اُس مسیح ابن مریم کو مار چکا جو اسرائیلی نبی تھا جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔اب یہ لفظ اپنے گھر سے حدیثوں میں زیادہ مت کرو کہ وہی مسیح فوت شدہ پھر آئے گا۔ اے خدا کے بندو کچھ تو خدا سے ڈرو۔کیاخدائے تعالیٰ آپ کے نزدیک اس بات پر قادر نہیں کہ وہ اپنے ایک بندہؔ میں ایک ایسی روح ڈال دیوے جس سے وہ ابن مریم کے روپ میں ہی ہوجائے کیا اس کی مثالیں خدائے تعالیٰ کی کتابوں میں نہیں کہ اس نے ایک نبی کا نام دوسرے پرر کھ دیا کیا حدیثوں میں یہ مذکور نہیں کہ مثیل ابن مریم وغیرہ اس اُمّت میں پیدا ہوں گے تو پھر جب قرآن مسیح ابن مریم کو مارتا ہے اورحدیثیں مثیل ابن مریم کے آنے کا وعدہ دیتی ہیں تو اس صورت میں کیا اشکال باقی رہا۔ کیا اس میں کچھ جھوٹ ہے کہ جو ابن مریم کی سیرت رکھتا ہے وہ ابن مریم ہی ہے ۔ درآں ابن مریم خدائی نبود زموت و زفوتش رہائی نبود رہا کرد خود راز شرک و دوئی توہم کن چنیں ابن مریم توئی اے مولوی صاحبان فضولی کو چھوڑو اور مجھے کوئی ایک ہی حدیث ایسی دکھلاؤ کہ جو صحیح ہو اور جو مسیح کا خاکی جسم کے ساتھ زندہ اٹھایا جانا اور اب تک آسمان پر زندہ ہونا ثابت کرتی ہو اور تواتر کی حد تک پہنچی ہو اور اس مقدار ثبوت تک پہنچ گئی ہوجو عند العقل مفید یقین قطعی ہوجاوے اور صرف شک کی حد تک محدود نہ رہے آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی تمام آیات بیّنہ کیسی مفید یقین ہیں۔اب جبکہ ہمارا دعویٰ مبنی برنصوص بیّنہؔ قرآنیہ ہے اور اس کی تائید میں صحیح حدیثیں بھی ہمارے پاس ہیں اور ایسا ہی اقوال سلف و خلف بھی ہماری تائید میں کچھ تھوڑے نہیں اور الہامی شہادت اِن سب کے علاوہ ہے سو اب تم انصاف کے ترازو لے کربیٹھ جاؤ اور ایک پلّہ میں اپنے خیالات رکھو اور دوسرے پلّہ میں ہماری یہ سب وجوہات۔اور آپ ہی انصاف کرلو۔ خوب سوچ لو کہ اگر ہمارے پاس صرف نصوص قرآن کریم ہی ہوتیں تو فقط وہی کافی تھیں۔ اب جس حالت میں بعض حدیثیں بھی ان