بھیج دے۔ میں کہتاہوں کہ اگر صرف قدرت کو دیکھنا ہے اور نصوص قرآنیہ سے کچھ غرض نہیں تو ظاہر ہے کہ قدرت خدائے تعالیٰ کی دونوں طور سے متعلق ہے چاہے تو زندہ کرکے بھیج دے اور چاہے توؔ ہرگز زندہ نہ کرے اورنہ دنیا میں بھیجے۔اور دیکھنا تو یہ چاہیئے کہ اِن دونوں طور کی قدرتوں میں سے اُس کے منشاء کے موافق کونسی قدرت ہے۔ سو ادنیٰ سوچ سے ظاہر ہوگا کہ یہ قدرت کہ جس کو ایک دفعہ مار دیا پھر خواہ نخواہ دوموتوں کا عذاب اس پر نازل کرے ہرگز اس کے منشاء کے موافق نہیں جیسا کہ وہ خود اس بارہ میں فرماتا ہے۔333 ۱؂ ۔ یعنی جس کو ایک دفعہ مار دیا پھر اُس کو دنیا میں نہیں بھیجے گا اور جیسا کہ صرف ایک موت کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہےٰ33 ۲؂ سو یہ بات اس کے سچے وعدہ کے برخلاف ہے کہ مُردوں کو پھر دنیا میں بھیجنا شروع کر دیوے۔ اور کیوں کر ممکن تھا کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی اور نبی اسی مفہوم تام اور کامل کے ساتھ جو نبوت تامّہ کی شرائط میں سے ہے آسکتا۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کی نبوت تامہ کے لوازم جو وحی اور نزول جبرئیل ہے اس کے وجود کے ساتھ لازم ہونی چاہیئے کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اُسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین جبرئیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے کیا یہ مہر اُس وقت ٹوٹ جائے گی۔ اور اگر کہو کہ مسیح ابن مریم نبوتؔ تامہ سے معزول کرکے بھیجا جائے گا تو اس سزا کی کوئی وجہ بھی توہونی چاہیئے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے استحقاق معبود قرار دیا گیا تھا سوخدائے تعالیٰ نے چاہا کہ اس کی سزا میں نبوت سے اس کو الگ کر دیاجائے اور وہ زمین پر آکر دوسروں کے پیرو بنیں اَوروں کے پیچھے نماز پڑھیں اور امام اعظم کی طرح صرف اجتہاد سے کام لیں۔ اور حنفی الطریق ہو کر حنفی مذہب کی تائید کریں۔ لیکن یہ جواب معقول نہیں ہے خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس الزام سے اُن کوبری کر دیا ہے اور ان کی نبوت کو ایک دائمی نبوت قرار دیا ہے۔