کے سامنے حدیثوں کا ذکر کرنا ایسا ہے کہ جیسا آفتاب کے مقابل پر ِ کرم شب تاب کو پیش کیاجائے۔ مگر پھربھی ہمارے مخالفین کی سخت بے نصیبی ہے کہ اس قسم کی حدؔ یثیں بھی تو نہیں ملتیں جن سے یہ ثابت ہو کہ مسیح ابن مریم سچ مچ اسی جسم خاکی عنصری کے ساتھ آسمان کی طرف زندہ اٹھایا گیا۔ ہاں اس قسم کی حدیثیں بہت ہیں کہ ابن مریم آئے گا مگر یہ تو کہیں نہیں لکھاکہ وہی ابن مریم اسرائیلی نبی جس پر انجیل نازل ہوئی تھی جس کو قرآن شریف مار چکا ہے وہی زندہ ہو کر پھر آجائے گا۔ہاں یہ بھی سچ ہے کہ آنے والے مسیح کو نبی کرکے بھی بیان کیا گیا ہے مگر اس کو اُمّتی کر کے بھی تو بیان کیا گیا ہے بلکہ خبر دی گئی کہ اے اُمّتی لوگو وہ تم میں سے ہی ہوگا اور تمہارا امام ہو گا اور نہ صرف قولی طور پر اس کا امتی ہونا ظاہر کیا بلکہ فعلی طور پر بھی دکھلادیا کہ وہ امتی لوگوں کے موافق صرف قال اللہ وقال الرسول کا پیروہوگا اور حل مغلقات و معضلات دین نبوت سے نہیں بلکہ اجتہاد سے کرے گا اور نماز دوسروں کے پیچھے پڑھے گا۔ اب اِن تمام اشارات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ واقعی اور حقیقی طورپر نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں ہو گا۔ ہاں نبوت ناقصہ اُس میں پائی جائے گی جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کہلاتی ہے اور نبوت تامّہ کی شانوں میں سے ایک شان اپنے اندر رکھتی ہے۔ سو یہ بات کہ اسؔ کو اُمّتی بھی کہا اورنبی بھی۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں شانیں اُمتیت اور نبوت کی اُس میں پائی جائیں گی جیسا کہ محدّث میں ان دونوں شانوں کا پایاجانا ضروری ہے لیکن صاحب نبوت تامّہ تو صرف ایک شان نبوت ہی رکھتا ہے۔ غرض محدثیت دونوں رنگوں سے رنگین ہوتی ہے اِسی لئے خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام اُمتی بھی رکھااور نبی بھی۔ اور یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ جب اسرائیلی نبی مسیح ابن مریم فوت ہوچکا اور پھر اس کے زندہ ہوجانے کا کہیں قرآ ن شریف میں ذکر نہیں تو بجُز اس کے اور کیا سمجھ میں آسکتا ہے کہ یہ آنے والا ابن مریم اَور ہی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کیا خدائے تعالیٰ قادر نہیں کہ مسیح ابن مریم کو زندہ کر کے