کہ جہاں تک ممکن ہے مؤلفین صحاح نے حدیثوں کی تنقید و تفتیش میں بڑی بڑیؔ کوششیں کی ہیں مگر پھر بھی ہمیں ان پر وہ بھروسا نہیں کرنا چاہیئے جواللہ جلّشانہ‘ کی کلام پر کیاجاتاہے کیونکہ وہ کئی واسطوں سے اور معمولی انسانوں کے ہاتھوں سے دست مال ہو کر آئمہ حدیث کو ملی ہیں۔ مثلًا ایک حدیث کا راوی عمر رضی اللہ عنہ ہے جوخلیفہ رسول اللہ اور رئیس الثقات ہے چونکہ چھ سات راوی درمیان میں ایسے ہیں جو اُن کا تزکیہ نفس اور کمال طہارت ثابت نہیں اور اُن کی راستبازی اورخداترسی اور دیانت گو سرسری نظر سے بطور حُسن ظن تسلیم کی گئی ہومگر بانکشاف تام کچھ ثابت نہیں سو وہ کیوں کر راستبازی میں حضرت عمر کے قائمقام سمجھے جائیں گے۔اور کیوں جائز نہیں کہ انہوں نے عمداً یا سہواً بعض احادیث کی تبلیغ میں خطا کی ہو۔ اسی نظر سے بعض اَئمہ نے احادیث کی طرف توجہ کم کی ہے جیساکہ امام اعظم کوفی رضی اللہ عنہ جن کو اصحاب الرائے میں سے خیال کیاگیا ہے اور ان کے مجتہدات کو بواسطہ وقت معانی احادیث صحیحہ کے برخلاف سمجھا گیا ہے۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم و فراست میں اَئمہ ثلاثہ باقیہ سے افضلؔ واعلیٰ تھے اور اُن کی خداداد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور اُن کی فطر ت کو کلام الٰہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔ اسی وجہ سے اجتہاد واستنباط میں اُن کے لئے وہ درجہ علیا مسلّم تھا جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے۔ سبحان اللہ اس زیرک اور ربّانی امام نے کیسی ایک آیت کے ایک اشارہ کی عزت اعلیٰ وارفع سمجھ کر بہت سی حدیثوں کو جو اس کے مخالف تھیں ردّی کی طرح سمجھ کر چھوڑ دیا اور جہلا کے طعن کا کچھ اندیشہ نہ کیا مگر افسوس کہ آج وہ زمانہ ہے کہ بے سروپا اقوال قرآن شریف پر مقدّم سمجھے جاتے ہیں اور ایک بے اصل لکیرکو اجماع کی صورت میں خیال کیاجاتاہے اور اگرچہ قرآن کریم کی نصوصِ بیّنہ