انشاء اللہ القدیر براہین احمدیہ کے حصص باقیہ میں بتصریح و تفصیل بیان کریں گے۔سو اسی قرآن کریم نے حضرت مسیح کی وفات کے منکرین کو ایسی زک دی ہے کہ اب وہ ذراٹھہر نہیں سکتے اور اس جنگ میں نا سمجھ لوگوں نے ایسی شکست کھائی ہے کہ اس شکست کی کوفت عمر بھر انہیں نہیں بُھولے گی۔ غرض قرآن شریف دھکّے دے دیکر اُن کو اپنے دربار سے باہر نکال رہا ہے۔ اب رہی حدیثیں سو سب سے اوّل یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ قرآن کریم کے مقابل پر حدیثوں کی کیا قدر اور منزلت ہے اور جب قرآن کریم کے نصوص بیّنہ سے کوئی حدیث مخالف پڑے تو کہاں تک اس کے اعتبار کو وزن دے سکتے ہیں۔ سو جاننا چاہیئے کہ قرآن کریم وہ یقینی اور قطعی کلا م الٰہی ہے جس میں انسان کا ایک نقطہ یا ایک شعشہ تک دخل نہیں اور وہ اپنے الفاظ اور معانی کے ساتھ خدائے تعالیٰ کا ہی کلام ہے اور کسی فرقہ اسلام کو اس کے ماننےؔ سے چارہ نہیں۔ اس کی ایک ایک آیت اعلیٰ درجہ کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے وہ وحی متلو ہے جس کے حرف حرف گنے ہوئے ہیں وہ بباعث اپنے اعجاز کے بھی تبدیل اورتحریف سے محفوظ ہے۔ لیکن احادیث تو انسانوں کے دخل سے بھری ہوئی ہیں۔ جو ان میں سے صحیح کہلاتی ہیں اُن کا اتنا بھی مرتبہ نہیں جو ایک آیت کے مقابلہ پر ایک کروڑ اُن میں سے وہ رنگ اور شان پیدا کرسکے جو اللہ جلَّ شَانُہٗ کی بے مثل کلام کو حاصل ہے اگر چہ حدیث صحیح بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ سند متصل ثابت ہو ایک قسم کی وحی ہے مگر وہ ایسی تو نہیں جو قائم مقام قرآ ن شریف ہو سکے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف کی جگہ صرف حدیث پڑھ کر نماز نہیں ہوسکتی۔ حدیثو ں میں ضعف کی وجوہات اس قدر ہیں کہ ایک دانا آ دمی اُن پرنظر ڈال کر ہمیشہ اس بات کا محتاج ہوتاہے کہ اُن کو تقویت دینے کے لئے کم سے کم نصِ قرآنی کا کوئی اشارہ ہی ہو۔ یہ سچ ہے کہ حدیثیں صحابہ کی زبان سے بتوسط کئی راویوں کے مؤلفین صحاح تک پہنچی ہیں اور یہ بھی سچ ہے