اور ابن آدم کہلا کر اورآدمی کاہم جنس ہو کر اس کو یہ استحقاق بنی نوع کی ہمدردی کاپیدا ہوا ہے ہاں یہ ممکن ہے کہ یہ حجت پیش کی جائے کہ مسیح کا ایک اوربھائی تھا کہ جو ابن آدم نہیں بلکہ ابن جن کہلاتا تھا وہ جنات کے کفارہ کے لئے مصلو ب ہوا تھا۔ مگر پھر بھی انجیل کی رو سے کوئی ثبوت پیش کرنا پڑے گا۔
ایسا ہی قرآن کریم نے ہندوؤں پر بھی بہت سی صداقتیں ظاہرکی ہیں اور وہ قیوم العالمین جس سے وہ بے خبر تھے ان کا انہیں پتہ دیا ہے اگر وہ لوگ اس صداقت کو قبول کرتے تو اس خدا کو دیکھ لیتے جس کی عظمت وقدرت سے وہ غافل ہیں۔ لیکن انہوں نے انگریزوں کے فلسفہؔ جدیدہ کو دیکھ کر فلسفی بننا چاہا۔ اور ہر یک چیز کے اسباب تلاش کرنا شروع کئے تا قرآن کریم کی حقانی فلاسفی کے ساتھ مقابلہ کریں۔ مگر یہ حرکت اُن کے لئے بڑی سرگشتگی کا موجب ہوئی اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ انہوں نے اپنے اعتقادات اور اعمال کی نسبت جووید کی تعلیم کے رُو سے اُن کے ایمان میں داخل ہیں دو بُرے نمونے ظاہر کردئے۔اعتقاد کی نسبت یہ نمونہ کہ خدائے تعالیٰ کی خالقیت کی نسبت انکار کر کے اس کے وجود کے پتہ لگنے کی راہیں اپنے پر بند کردیں اور دنیا کے ذرّہ ذرّہ اور تمام ارواح کو خود بخود اور قدیم اور واجب الوجود سمجھ کر توحید کے اس دقیق راز کو چھوڑ دیا جس پر سچی معرفت اور سچا گیان اور سچی مکتی موقوف ہے اور اعمال کی نسبت یہ نمونہ کہ نیوگ کا ایک قابل شرم مسئلہ جو ویدوں میں چھپا ہوا چلا آتا تھا جس کے رو سے ایک شوہر دار عورت کسی آریہ کی اولاد حاصل کرنے کی غرض سے کسی غیر آدمی سے ہم بستر ہوسکتی ہے اپنی کتابوں میں شائع کیا۔ اگر ایسے اعتقاد کو ایک مختص الزمان قانون کی طرح سمجھتے تو شاید اس کی قباحت کسی قدر نرم ہوجاتی مگر اب تو یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے اور ہر زمانہ کےؔ لئے ایک غیر متبدّل قانون کی طرح سمجھاگیا ہے جو ویدوں کی طرح انادی چلا آیااور انادی ہی رہے گا۔ پس یہ قرآن کریم کی مخالفت کی سزا ہے جس کو ہم