قرار نہیں پکڑ تے اور اس سے ایک صاف اور صریح بات سن کر پھر کسی دوسرے کی نہیں سنتے اس کی ہریک صداقت کو خوشی سے اور دوڑ کر قبول کرلیتے ہیں اور آخر وہی ہے جوموجب اشراق اور روشن ضمیری کا ہوجاتا ہے اور عجیب در عجیب انکشافات کا ذریعہ ٹھہرتا ہے اور ہر یک کو حسب استعداد معراج ترقی پر پہنچاتا ہے۔ راستبازوں کو قرآن کریم کے انوار کے نیچے چلنے کی ہمیشہ حاجت رہی ہے اور جب کبھی کسیؔ حالتِ جدیدہ زمانہ نے اسلام کوکسی دوسرے مذہب کے ساتھ ٹکرا دیا ہے تو وہ تیز اور کار گر ہتھیار جو فی الفور کام آیا ہے قرآن کریم ہی ہے۔ ایسا ہی جب کہیں فلسفی خیالات مخالفانہ طور پر شائع ہوتے رہے تو اس خبیث پودہ کی بیخ کنی آخر قرآن کریم ہی نے کی اور ایسا اس کو حقیر اور ذلیل کر کے دکھلا دیا کہ ناظرین کے آگے آئینہ رکھ دیا کہ سچا فلسفہ یہ ہے نہ وہ۔ حال کے زمانہ میں بھی جب اوّل عیسائی واعظوں نے سراُٹھایا اور بد فہم اورنادان لوگوں کو توحید سے کھینچ کر ایک عاجز بندہ کا پرستار بنانا چاہا اور اپنے مغشوش طریق کو سوفسطائی تقریروں سے آراستہ کر کے اُن کے آگے رکھ دیا اور ایک طوفان ملک ہند میں برپا کر دیا آخر قرآن کریم ہی تھا جس نے انہیں پسپا کیا کہ اب وہ لوگ کسی با خبر آدمی کو منہ بھی نہیں دکھلا سکتے اور اُن کے لمبے چوڑے عذرات کو ُ یوں الگ کر کے رکھ دیا جس طرح کوئی کاغذ کا تختہ لپیٹے۔ قرآن کریم نے اُن کے ایک بڑے بھارے عقیدہ کو جو کفّارہ کا عقیدہ تھا مَاقَتَلُوْہُ وَمَاصَلَبُوْہُ کا ثبوت دے کر معدوم کردیا۔ اور انسان کی نجات کے لئے وہ طبعی اور فطرتی طریقہ بتلایا جو آدم کی پیدائش سے ہر یک آدمی کیؔ جبلّت کو لازم ہے۔ اب وہ لوگ اس بات سے تو رہے کہ اپنا پُر ظلم اوربے اثر کفارہ عقلمند انسانوں کے سامنے پیش کرسکیں ہاں یہ ممکن ہے کہ اب جنات کی طرف جن کا وجود انجیل کی رُو سے ثابت ہے اس کفارہ کے لئے کوئی مشن بھیجیں کیونکہ ان کو توبھی تو خدائے تعالیٰ نے ہلاکت کے لئے پیدا نہیں کیا۔ مگرمشکل تو یہ ہے کہ یہ دروغ بے فروغ اسی حد تک بُنا گیا تھا کہ مسیح ابن مریم بنی آدم کے کفارہ کے لئے آیا ہے۔