جو فطرتاً انبیاء سے بہت اقرب ہیں سو جن کے آنے کاصاف طور پر بلا تعارض وعدہ دیا گیا ہے اُن سے مُنہ مت پھیرو اور اُن کے الہام سے بھی شہاد ت کا فائدہ اُٹھاؤ کیونکہ اُن کی گواہی اس بات کو کھولتی ہے جو تم اپنی عقلوں سے کھول نہیں سکتے۔ آسمانی گواہی کے ردّ کرؔ نے میں جرأت نہ کرو کیونکہ یہ بھی اُسی پاک چشمہ سے نکلی ہے جس سے وحی نبوت نکلی ہے۔ سو یہ وحی کے معنے کی شارح اور صراط مستقیم کو دکھلانے والی ہے۔
وصیّتُ الحق
اے ناظرین ! اب یہ عاجز اس مضمون کو ختم کر چکا اور اس تمام تحقیقات سے معلوم ہوا کہ شرعی اور نقلی طور پر ہمارے اس الہام کی تصدیق یا تکذیب کے لئے جو مسیح ابن مریم وفات پا چکا ہے تین راہیں ہیں۔ (۱) قرآن کریم (۲)احادیث (۳) اقوال سلف و خلف۔ اور اِن تینوں راہوں کے ذریعہ سے ہمارے الہام کی تصدیق ہورہی ہے۔سب سے سیدھی راہ اوربڑا ذریعہ جو انوار یقین اور تواتر سے بھر اہوا اور ہماری روحانی بھلائی اور ترقی علمی کے لئے کامل رہنما ہے قرآن کریم ہے جو تمام دنیا کے دینی نزاعوں کے فیصل کرنے کا متکفل ہوؔ کر آیا ہے جس کی آیت آیت اورلفظ لفظ ہزارہا طور کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے اور جس میں بہت سا آبِ حیات ہماری زندگی کے لئے بھراہوا ہے اور بہت سے نادر اور بیش قیمت جواہر اپنے اندر مخفی رکھتا ہے جو ہر روز ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ یہی ایک عمدہ محک ہے جس کے ذریعہ سے ہم راستی اور ناراستی میں فرق کرسکتے ہیں۔یہی ایک روشن چراغ ہے جو عین سچائی کی راہیں دکھاتا ہے۔ بلا شبہ جن لوگوں کو راہ راست سے مناسبت اور ایک قسم کا رشتہ ہے اُن کا دل قرآن شریف کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے اور خدائے کریم نے اُن کے دل ہی اس طرح کے بنا رکھے ہیں کہ وہ عاشق کی طرح اپنے اس محبوب کی طرف جھکتے ہیں اور بغیر اس کے کسی جگہ