ایک شخص عبد الرحمن نام کلکتہ کے رہنے والے کی گواہی تاریخ وفاتؔ کے بعد میں درج تھی تو کیا ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ وہی عبدالرحمن جو فو ت ہوچکا تھا زندہ ہو کر اپنی گواہی لکھ گیا ہے پس چونکہ اس عبد الرحمن کے زندہ ہوجانے کاہمارے پاس کوئی بھی ثبوت نہیں تو کیا صرف خدائے تعالیٰ کی قدرت کے حوالہ سے ہم کسی ایسی صورت کے مقدمہ میں جوعدالت میں پیش ہے بغیر اس بات کے ثبوت دینے کے کہ درحقیقت وہی عبد الرحمن زندہ ہوکر اپنی گواہی لکھ گیا ہے ڈگری کے پانے کے مستحق ٹھہر سکتے ہیں ہرگز نہیں۔
اور یہ دغدغہ کہ کیوں مسیح ابن مریم کے لفظ کو اختیار کیا گیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اُسی طرز کا محاورہ ہے جیسے یحيٰ بن زکریا کے لئے ایلیا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ خدائے تعالیٰ کو منظورتھا کہ آخری زمانہ میں کوئی شخص مسیح کی قوت اورطبع میں پیداہواور وُہ اس گروہ کذّاب کا مقابلہ کرے جن کی طبیعت اس طبیعت کے مغائر و مخالف واقع ہے۔ سو گروہ کذّاب کا نام اُس نے مسیح دجّال رکھااورحامی حق کا نام مسیح ابن مریم قرار دیا اور اس کو بھی ایک گروہ بنایا جو مسیح ابن مریم کے نام سے سچائی کی فتح کے لئے دنیا کے اخیر تک کوشش کرتا رہے گا۔ سو ضرور تھا کہ ؔ یہ آنے والا مسیح ابن مریم کے نام سے ہی آتا۔ کیونکہ جس تاثیر اماتت احیاء کو مسیح دجّال نے پھیلانا چاہا ہے اس تاثیر کے مخالف مسیح ابن مریم کو تاثیر دی گئی ہے جو روح القدس کے ذریعہ سے اس کو ملی ہے سو جو شخص مسیح کے قدم پر وہ تاثیر لے کر آیا اور زہر ناک ہوا کے مقابل پر جو ہلاک کرتی ہے یا ہلاکت تک پہنچاتی ہے ایک تریاقی نفس اس کو عطا ہؤا۔اس وجہ سے وہ مسیح ابن مریم کہلایا کیونکہ وہ روحانی طور پر مسیح کے رنگ میں ہو کر آیا۔ مسیح کیوں کر آسکتا۔ وہ رسو ل تھا اور خاتم النبیین کی دیوار روئیں اس کو آنے سے روکتی ہے۔ سو اس کا ہمرنگ آیا وہ رسول نہیں مگر رسولوں کے مشابہ ہے اور امثل ہے۔کیا عام لفظو ں میں کسی حدیث میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بعض گزشتہ رسولوں میں سے پھر اس امت میں آئیں گے جیسا کہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ اُن کے مثیل آئیں گے اور امثل آئیں گے