دوسرے مہدی کی ضرورت ہی کیا ہے اور یہ صرف امامین موصوفین کاہی مذہب نہیں۔ بلکہ ابن ماجہ اورحاکم نے بھی اپنی صحیح میں لکھا ہے کہ لامھدی الّا عیسیٰ یعنی بجُز عیسیٰ کے اُس وقت کوئی مہدی نہ ہوگا۔ اور یوں تو ہمیں اس بات کا اقرار ہے کہ پہلے بھی کئی مہدی آئے ہوں اور ممکن ہے کہ آئندہ بھی آویں اور ممکن ہے کہ امام محمدؐ کے نام پر بھی کوئی مہدی ظاہر ہو لیکن جس طرز سے عوام کے خیال میں ہے اس کا ثبوت پایا نہیں جاتا۔ چنانچہ یہ صرف ہماری ہی رائے نہیں اکثر محقق یہی رائے ظاہرکرتے آئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اچھا مہدی کا قصّہ جانے دو۔ لیکن یہ جو بار بار حدیثو ں میں بیان کیا گیا ہے کہ عیسیٰ آئے گا۔ مسیح ابن مریم نازل ہوگا۔ اِن صریح لفظوں کی کیوں تاویل کی جائے۔اگر اللہ جلَّ شَانُہٗ کے علم اور ارادہ میں ابن مریم سے مراد ابن مریم نہیں تھا تو اس نے لوگوں کو دانستہ اِن مشکلات میں کیوں ڈالا اور سیدھا کیوں یہ نہ کہہ دیا کہ کوئی مثیل مسیح آئےؔ گا۔ بلکہ کون سی ضرورت اس بات کی طرف داعی تھی جو ضرور مثیل مسیح آتا کوئی اورنہ آتا۔ اب کھلے کھلے لفظوں سے کیوں کر انکار کریں یہ انکار تو دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے اور درپردہ اس انکار کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی غلط ہے۔ لیکن واضح ہو کہ یہ تمام اوہام باطلہ ہیں۔ قرآن کریم اوراحادیث میں بغرض آزمائش خلق اللہ ایسے ایسے استعارات کا مستعمل ہونا کوئی انوکھی اور بے اصل بات نہیں۔ اور پہلی کتابوں میں ایسے استعارات کی نظیر موجود ہے ایلیا کے قصہ کو دیکھو جس کو یوحنا کہا گیاہے۔ جبکہ قرآن شریف نے قطعی اوریقینی طورپر ظاہر کردیا کہ حضر ت مسیح ابن مریم فوت ہوگئے ہیں تو اب اس سے بڑھ کر ضرورتِ تاویل کے لئے اور کیاقرینہ ہوگا۔ مثلًا فرض کے طورپر بیان کرتاہوں کہ ایک مستند خط کے ذریعہ سے معلوم ہوا کہ ایک شخص کلکتہ میں رہنے والا عبد الرحمن نام جس کی شہادت کسی مقدمہ کے لئے مؤثر تھی فوت ہوگیا ہے۔ پھر بعد اس کے ہم نے ایک ایسا کاغذ تمسّک دیکھا جس پر