پورے طور پر ممالک مغربی میں طلوع کرے گا تو وہی لوگ اسلام سے محروم رہ جائیں گے جن پر دروازہ توبہ کابند ہے یعنی جن کی فطرتیں بالکل مناسب حال اسلام کے واقع نہیں۔ سو توبہ کا دروازہ بند ہونے کے یہ معنے نہیں کہ لوگ توبہ کریں گے مگرمنظورنہ ہوگی۔اور خشوع اورخضوع سے روئیں گے مگر ردّ کئے جائیں گے کیونکہ یہ تواس دنیا میں اس رحیم و کریم کی شان سے بالکل بعید ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اُن کے دل سخت ہوجائیں گے اور انکو توبہ کی توفیق نہیں دی جائے گی اوروہی اشرار ہیں جن پر قیامت آئیگی ۔ فتفکّر وتدبّر۔ ایسا ہی مہدی کے بارہ میں جو بیان کیا جاتا ہے کہ ضرور ہے کہ پہلے امام محمدؐ مہدی آویں اوربعد اس کے ظہور مسیح ابن مریم کا ہو۔ یہ خیال قلّتؔ تدبّر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اگر مہدی کا آنا مسیح ابن مریم کے زمانہ کے لئے ایک لازم غیر منفک ہوتا اور مسیح کے سلسلہ ظہورمیں داخل ہوتا تو دو بزرگوار شیخ اور امام حدیث کے یعنی حضرت محمد اسمٰعیل صاحب صحیح بخاری اورحضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنے صحیحوں سے اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے۔لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیا اور حصر کے طورپر دعویٰ کر کے بتلادیا کہ فلاں فلاں امر کا اس وقت ظہور ہوگا۔ لیکن امام محمد مہدی کانام تک بھی تو نہیں لیا۔ پس اس سے سمجھاجاتاہے کہ انہوں نے اپنی صحیح اور کامل تحقیقات کی رُو سے اُن حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھا جو مسیح کے آنے کے ساتھ مہدی کا آنا لازم غیرمنفک ٹھہرارہی ہیں اور دراصل یہ خیال بالکل فضول اور مہمل معلوم ہوتاہے کہ باوجود یکہ ایک ایسی شان کاآدمی ہو کہ جس کو باعتبار باطنی رنگ اور خاصیت اس کی کے مسیح ابن مریم کہنا چاہیئے دنیا میں ظہور کرے اورپھرا س کے ساتھ کسی دوسرے مہدی کاآنا بھی ضروری ہو۔ کیا وہ خود مہدی نہیں ہے ؟ کیا وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پا کر نہیں آیا؟ کیااُس کے پاس اس قدر جواہرات وخزائن واموال معارف و دقائق نہیںؔ ہیں کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں اور اِس قدراُن کا دامن بھر جائے جو قبول کرنے کی جگہ نہ رہے۔ پس اگر یہ سچ ہے تو اُس وقت