سے منّور کئے جائیں گے اور اُن کو اسلام سے حصّہ ملے گا۔ اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلّل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔ بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جوچھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کے رنگ سفید تھے اورشاید تیترکے جسم کے موافق اُن کا جسمؔ ہوگا۔سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ میں نہیں مگر میری تحریریں اُن لوگوں میں پھیلیں گی۔ اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کے شکارہوجائیں گے۔ درحقیقت آج تک مغربی ملکوں کی مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے گویا خدائے تعالیٰ نے دین کی عقل تمام ایشیا کو دے دی اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو۔ نبیوں کا سلسلہ بھی اول سے آخر تک ایشیا کے ہی حصہ میں رہا اور ولایت کے کمالات بھی انہیں لوگوں کو ملے۔ اب خدائے تعالیٰ ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔
اوریاد رہے کہ مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ طلوع الشمس من مغربھا کے کوئی اور معنے بھی ہوں َ میں نے صرف اُس کشف کے ذریعہ سے جو خدائے تعالیٰ نے مجھے عطاکیا ہے مذکورہ بالا معنے کو بیان کیا ہے۔اگر کوئی مولوی مُلّا ان الٰہی مکاشفات کو الحاد کی طرف منسوب کرے تو وہ جانے اور اس کا کام۔ وما قلت من عند نفسی بل اتبعت ما کشف علیّ واللّٰہ بصیر بحالی وسمیع لمقالی فاتقوااللّٰہ ایّھا العلماء۔
لیکن اگر کوئی اس جگہ یہ سوال کرے کہ جب مغرب کی طرف سے آفتاؔ ب طلوع کرے گا تو جیسا کہ لکھا ہے توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا تو پھر اگر یہی معنے سچ ہیں تو ایسے اسلام سے کیا فائدہ جو مقبول ہی نہیں۔
اِس کا جواب یہ ہے کہ توبہ کا دروازہ بند ہونے سے یہ مطلب تو نہیں کہ توبہ منظور ہی نہیں ہو گی۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب ممالک مغربی کے لوگ فوج درفوج دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے تب ایک انقلاب عظیم ادیان میں پیدا ہوگا۔ اور جب یہ آفتاب