اس دخان مبین کا وعدہ تھا اس طرح پر کہ قبل از ظہور مسیح نہایت درجہ کی شدت سے اس کا ظہور ہو گا۔ اب سمجھناچاہیئے کہ یہ آخری زمانہ کا قحط جسماؔ نی اور روحانی دونوں طور سے وقوع میں آیا۔ جسمانی طور سے اس طرح کہ اگر اب سے پچاس برس گذشتہ پر نظر ڈالی جاوے تو معلوم ہوگا کہ جیسے اب غلّہ اور ہر یک چیز کا نرخ عام طور پر ہمیشہ کم رہتا ہے اس کی نظیر پہلے زمانوں میں کہیں نہیں پائی جاتی۔ کبھی خواب و خیال کی طرح چند روز گرانی غلّہ ہوتی تھی اورپھر وہ دن گذر جاتے تھے لیکن اب تو یہ گرانی لازم غیر منفک کی طرح ہے اورقحط کی شدّت اندر ہی اندر ایک عالم کو تباہ کررہی ہے۔
اور روحانی طورپر صداقت اورامانت اور دیانت کا قحط ہوگیا ہے اور مکر اور فریب اورعلوم و فنون مظلمہ دُخان کی طرح دنیا میں پھیل گئی ہیں اور روز بروز ترقی پرہیں۔ اس زمانہ کے مفاسد کی صورت پہلے زمانوں کے مفاسد سے بالکل مختلف ہے۔ پہلے زمانوں میں اکثر نادانی اور اُمّیت رہزن تھی اس زمانہ میں تحصیل علوم رہزن ہورہی ہے۔ ہمارے زمانہ کی نئی روشنی جس کو دوسرے لفظوں میں دخان سے موسوم کرنا چاہیئے عجیب طورپر ایمان اور دیانت اور اندرونی سادگی کو نقصان پہنچارہی ہے۔ سوفسطائی تقریروں کے غبار نے صداقت کے آفتاب کو ؔ چھپادیا ہے اور فلسفی مغالطات نے سادہ لوحوں کوطرح طرح کے شبہات میں ڈال دیا ہے۔ خیالات باطلہ کی تعظیم کی جاتی ہے اورحقیقی صداقتیں اکثر لوگوں کی نظر میں کچھ حقیر سی معلوم ہوتی ہیں۔ سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ عقل کے رہزدوں کو عقل سے درست کرے اورفلسفہ کے سرگشتوں کو آسمانی فلسفہ کے زور سے راہ پر لاوے سو یہ کامل درجہ کا دُخان مبین ہے جو اس زمانہ میں ظاہر ہوا ہے۔
ایسا ہی طلوع شمس کا جو مغرب کی طرف سے ہو گا۔ ہم اسپر بہر حال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جو ایک رؤیامیں ظاہرکیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر وضلالت میں ہیں آفتابِ صداقت