رب نے رحمت کی راہ سے ایسا ہی اراد ہ کیا ہے کہ کل معارف ودقائق الٰہیہ کا تیری بعثت مبارکہ پر ہی خاتمہ ہو اوروہی کلام کل معارف حکمیہ کا جامع ہو جو تجھ پرنازل ہوا ہے اور یہ بات ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں اور اس برکت والی رات سے مراد ایک تو وہی معنے ہیں جو مشہور ہیں اوردوسری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت کی رات ہے اور اس کا دامن قیامت کے دن تک پھیلا ہوا ہے اور آیت 3 ۱میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ تمام زمانہ جو قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت کے تحت میں ہے فیوض قرآن کریم سے بہت فائدہ اُٹھائے گا اور وہ تمام معارف الٰہیہ جو دنیا میں مخفی چلے آتے تھے اس زمانہ میں وقتًا فوقتًا ظہورپذیر ہوتے رہیں گے اور نیز آیت33 میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس زمانہ بابرکت کے خواص میں سے یہ بھی ہوگا کہ معاش اور معاد کے کل علوم حکمیہ اپنے اعلیٰ درجہ کے کمالات کے ساتھ ظہورپذیرہوں گے اور کوئی امر حکمت ایسا نہیں رہے گا جس کی تفصیل نہ کی جائے۔ پھر آگے فرماؔ یا کہ خداوہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو بنایا اورجو کچھ اس کے درمیان ہے سب اُسی نے پیدا کیا تا تم اُسی صانع حقیقی پر یقین لاؤ اورشک کرنے کی کوئی وجہ نہ رہے۔ کوئی معبود اس کے سوا نہیں۔ وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تمہارا رب ہے اورتمہارے اُن باپ دادوں کا رب جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں۔ بلکہ وہ تو شکوک و شبہات میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان دلائل کی طرف انہیں کہاں نظر ہے۔ پس تُو اُس دن کا امیدوار رِہ جس دن آسمان ایک کھلا کھلا دھواں لائے گا جس کو دیکھ کر کہیں گے کہ یہ عذاب دردناک ہے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا یہ عذاب ہم سے اٹھا۔ ہم ایمان لائے۔
اس جگہ دخان سے مراد قحط عظیم وشدید ہے جو سات برس تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں پڑا یہاں تک کہ لوگوں نے مُردے اورہڈیاں کھائی تھیں جیسا کہ ابن مسعود کی حدیث میں مفصّل اس کا بیان ہے۔ لیکن آخری زمانہ کے لئے بھی جو ہمارا زمانہ ہے