اپنے اندر نہیں رکھتیں اور آخری زمانہ میں پورے جوش اور طاقت کے ساتھ ظہور کریں گی۔ خروج کالفظ استعمال ہوا ہے۔ ایسا ہی اُس شخص کے بارے میں جو حدیثوں میں لکھا ہے کہ آسمانی وحی اور قوت کے ساتھ ظہور کرے گا نزول کا لفظ استعمال کیاگیا ہے۔ سو اِن دونوں لفظوں خروج اور نزول میں درحقیقت ایک ہی امر مدنظر رکھا گیا ہے یعنی اس بات کا سمجھانا منظور ہے کہ یہ ساری چیزیں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والی ہیں باعتباراپنی قوتِ ظہور کے خروج اور نزول کی صفت سے متصف کی گئی ہیں جو آسمانی قوت کے ساتھ آنے والا تھا اس کو نزول کے لفظ سے یاد کیا گیا اور جو زمینی قوت کے ساتھ نکلنے والا تھا اس کو خروج کے لفظ کے ساتھ پکارا گیا تا نزول کے لفظ سے آنےؔ والے کی ایک عظمت سمجھی جائے اور خروج کے لفظ سے ایک خفّت اور حقارت ثابت ہو اورنیزیہ بھی معلوم ہو کہ نازل خارج پر غالب ہے۔ ایسا ہی دُخان جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے کچھ آخری زمانہ سے ہی خاص نہیں ہے ہاںآخری زمانہ میں جو ہمارا زمانہ ہے اس کا بیّن اورکھلے کھلے طور پر ظہور ہوا ہے جیسا کہ اللہ جلَّ شَانُہٗ فرماتا ہےسورۃ الدخان الجزونمبر ۲۵ یعنی اس روشن اور کھلی کھلی کتاب کی قسم ہے کہ ہم نے اس قرآن کریم کو ایک مبارک رات میں اُتارا ہے کیونکہ ہمیں منظور تھا کہ نافرمانی کے نتائج سے ڈراویں۔ وہ رات ایک ایسیؔ بابرکت رات ہے کہ تمام حکمت کی باتیں اس میں کھولی جاتی ہیں اور ایسا ہی ہم نے چاہا ہے اور تیرے