دجال اُسی دجّال کے رنگ میں ہوکر قوت کے ساتھ خروج کررہا ہے اورگویا مثالی اورظلّی وجود کے ساتھ وہی ہے اور جیسا کہ وہ اوّل زمانہ میں گرجا میں جکڑا ہوا نظر آیا تھا اب وہ اس بند سےَ مخلصی پا کر عیسائیوں کے گرجا سے ہی نکلا ہے اور دنیا میں ایک آفت برپا کررہا ہے۔
ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جوپہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طورپر غالب نہیں ہوسکیں اور اُن کی حالت میں ضعف رہا لیکن خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قومیں خروج کریں گی یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔ جیسا کہ سورۂ کہف میں فرماتا ہے 33 ۱ یعنی یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خدائے تعالیٰ چاہے گا فتح د ے گا۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور رُوس ہیں اسؔ لئے ہریک سعادتمند مسلمان کو دعاکرنی چاہیئے کہ اُس وقت انگریزوں کی فتح ہو۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں۔اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے۔ جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدائے تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پار ہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پا سکتے۔ہر گز نہیں پا سکتے۔
ایساؔ ہی دابۃ الارض یعنی وہ علماء و واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتدا سے چلے آتے ہیں لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہو گی اور اُن کے خروج سے مراد وہی اُن کی کثرت ہے۔
اور یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسی ان چیزوں کے بارے میں جو آسمانی قوت