کوشش کر کے نئی دنیا کا سُراغ لگا ہی لیا۔ آپ اس ایک ناکارہ کام میں ہی کامیابی دکھلائیے شاید ان لوگوں میں سے کسی کا پتہ چلے بہر کارے کہ ہمت بستہ گردد۔ اگر خارے بود گلدستہ گردد۔ اور اگرایسا نہیں کرو گے تو پھر خیر اس میں ہے کہ ان بیہودہ خیالات سے بازآجائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسمیں کھا کر فرمایا ہے کہ کوئی جاندار اس وقت سے سو برس تک زمین پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر آپ ناحق ان سب جانداوں کو اس زمانہ سے آج تک زندہ خیال کر رہے ہیں۔ یہ تحقیق اور تدقیق کا زمانہ ہے اسلام کا ایسا خاکہ کھینچ کر نہ دکھلائیے جس پر بچہ بچہ ہنسی کرے۔ غور کرکے سوچئے کہ یہ کروڑہا انسان جو صدہا برسوں سے زندہ فرض کئے گئے ہیں جو اب تک مرنے میں نہیں آتے کس ملک اور کس شہر میں رہتے ہیں۔ تعجب کہ معمورۂ دنیا کیؔ حقیقت بخوبی کھل گئی اورپہاڑوں اور جزیروں کا حال بھی بخوبی معلوم ہو گیا اور تفتیش کرنے والوں نے یہاں تک اپنی تفتیش کوکمال تک پہنچادیا جو ایسی آبادیاں جو ابتدا ءِ دُنیا سے معلوم نہ تھیں وہ اب معلوم ہوگئیں مگر اب تک اس جساسہ اوردجّال اورابن صیّاد مفقود الخبر اور دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج کے کروڑہا انسانوں کا کچھ پتہ نہیں ملتا۔ سو اَے حضرات ! یقینًا سمجھو کہ وہ سب جاندار جو انسان کی قسم میں سے تھے اس دنیا سے کوچ کرگئے پردۂ زمین میں چھپ گئے اور مسلم کی سو برس والی حدیث نے اپنی جلالی سچائی سے موت کا مزہ اُنہیں چکھا دیا۔ اب ان کی انتظار آپ کی خام خیالی ہے۔ اب تو اِنّا للّٰہ کہہ کر ان کورخصت شدہ سمجھئے۔ اور اگر آپ کے دل میں یہ خلجان گذرے کہ احادیث نبویہ میں اُن کے خروج کا وعدہ ہے اس کے اس صورت میں کیا معنے ہوں گے۔ سو سنو ! اس کے سچے معنے جو اللہ جلَّ شَانُہٗ نے میرے پر ظاہر کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ اِن سب چیزوں کا آخری زمانہ میں جلالی طور پر صور مثالیہ میں ظہور مراد ہے مثلًا پہلے دجّال کو اس طرح پر دیکھا گیا کہ وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا کمزورؔ اور ضعیف ہے کسی پرحملہ نہیں کر سکتا مگر اس آخری زمانہ میں عیسائی مشن کا