اشارہ ہو کہ یہ چیزیں جو آخری زمانہ میں ظہور پذیرہوں گی وہ ابتدائی زمانوں میں بکلّی معدوم نہیں ہوں گی بلکہ اپنے وجود نوعی یامثالی کے ساتھ جو آخری وجود کا ہمرنگ اور مماثل ہوگا پہلے بھی بعض افراد میں ان کا وجود متحقق ہوگالیکن وہ وجود ایک ضعف اور کمزوری اورناکامی کی حالت میں ہوگا۔ مگر دوسرا وجود جس کو خروج کے لفظ سے تعبیر کیا گیاہے اس میں ایک جلالی حالت ہوگی یعنی پہلے وجود کی طرح ضعف اور کمزوری نہیں ہوگی اور ایک طاقت کے ساتھ اس کا ظہورہوگا جس کے اظہار کے لئے خروج کا لفظ استعمال کیا گیاہے۔ اِسی بنا پر مسلمانوں میں یہ خیال چلا ؔ آتا ہے کہ مسیح دجّال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے موجود ہے اور پھر اُن کے خیالات میں ایسی غلطی پک گئی ہے کہ ابتک مسیح ابن مریم کی طرح اس کو زندہ سمجھا ہوا ہے۔ جوکسی جزیرہ میں مقید اورجکڑاہوا ہے اور اس کی جساسہ بھی اب تک زندہ ہے جو اس کو خبریں پہنچارہی ہے افسوس کہ یہ لوگ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں غلط فہمی کر کے کیسی مصیبتوں میں پھنس گئے۔ ایسا ہی یہ لوگ یاجوج ماجوج کو بھی وجود شخصی کے ساتھ زندہ سمجھتے ہیں یعنی بقا ء شخصی کے قائل ہیں۔اب جبکہ دجّال اور اس کی جساسہ اور یاجوج ماجوج کے کروڑہا آدمی اور دابۃ الارض اور بقول بعض ابن صیّاد بھی اب تک زندہ ہیں تو حضرت مسیح اگر زندہ نہ ہوں تو ان کی حق تلفی ہے۔ میرے نزدیک بہت سہل طریق ثبوت کا یہ ہے کہ مولوی صاحبان کوشش کر کے کوئی یاجوج ماجوج کا آدمی یا دجّال کی جساسہ یا ابن صیّاد کو ہی کسی جنگل سے پکڑ کرلے آویں پھر کیا بات ہے سب مان جائیں گے کہ اسی طرح حضرت مسیح بھی آسمان پر زندہ ہیں اور مفت میں فتح ہوجائے گی۔ حضرات ! اب ہمت کیجئے کہیں سے دجّال شریر کی جساسہ کو ہی پکڑؔ یئے حوصلہ نہ ہاریں آخر یہ سب زمین پر ہی ہیں۔ابن تمیم کی حدیث کو مسلم میں پڑھ کر اسی پتہ سے جساسہ دجّال کا سُراغ لگائیے یا خبیث دجّال کو ہی جو زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے بچشم خود دیکھ کر پھر اَوروں کو دکھلائیے۔ بات تو خوب ہے۔انگریزوں نے ہمت اور