مراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندرنہیں رکھتے لیکن زمینی علوم و فنون کے ذریعہ سے منکرین اسلام کو لاجواب کرتے ہیں اور اپنا علم کلام اور طریق مناظرہ تائید دین کی راہ میں خرچ کرکے بجان و دل خدمت شریعت غرّا بجا لاتے ہیں۔سو وہ چونکہ درحقیقت زمینی ہیں آسمانی نہیں۔ اور آسمانی روح کامل طور پر اپنےؔ اندرنہیں رکھتے اس لئے دآبۃُالارض کہلاتے ہیں اور چونکہ کامل تزکیہ نہیں رکھتے اورنہ کامل وفاداری۔ اس لئے چہرہ اُن کا انسانوں کاہے مگر بعض اعضاء اُن کے بعض دوسرے حیوانات سے مشابہ ہیں۔ اسی کی طرف اللہ جلَّ شَانُہٗ اشارہ فرماتاہے 3333 ۱ یعنی جب ایسے دن آئیں گے جو کفار پر عذاب نازل ہو اور ان کا وقت مقدّر قریب آجائے گا توہم ایک گروہ دابۃالارض کا زمین میں سے نکالیں گے وہ گروہ متکلمین کاہو گا جو اسلام کی حمایت میں تمام ادیان باطلہ پر حملہ کرے گا یعنی وہ علماء ظاہر ہوں گے جن کو علم کلام اورفلسفہ میںیدِ طولیٰ ہوگا۔ وہ جابجا اسلام کی حمایت میں کھڑے ہوجائیں گے اور اسلام کی سچائیوں کو استدلالی طورپر مشارق مغارب میں پھیلائیں گے اور اس جگہ اَخْرَجْنَاکا لفظ اس وجہ سے اختیار کیاکہ آخری زمانہ میں اُن کا خروج ہو گا نہ حدوث یعنی تخمی طور پر یا کم مقدارکے طور پر تو پہلے ہی سے تھوڑے بہت ہر یک زمانہ میں وہ پائے جائیں گے لیکن آخری زمانہ میں بکثرت اور نیز اپنے کمال لائق کے ساتھ پیدا ہوںؔ گے اورحمایت اسلام میں جا بجا واعظین کے منصب پر کھڑے ہوجائیں گے اور شمار میں بہت بڑھ جائیں گے۔
واضح ہو کہ یہ خروج کا لفظ قرآن شریف میں دوسرے پیرایہ میں یاجوج ماجوج کے لئے بھی آیا ہے اور دخان کے لئے بھی قرآن شریف میں ایسا ہی لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کے معنوں کا ماحصل خروج ہی ہے اور دجّال کے لئے بھی حدیثوں میں یہی خروج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔سو اس لفظ کے استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے تا اس بات کی طرف