اور جس قوم کو چاہے خشک سالی سے ہلاک کردے۔ اور انہیں دنوں میں قومیں یاجوج اورماجوج کی ترقی پر ہوں گی اور زمین کو دباتی چلی جاویں گی اورہر یک بلند زمین سے دوڑے گی اور دجّا ل ایک جسیم آدمی سُرخ رنگ ہوگا۔ یہ تمام علامتیں اب کہاں پائی جاتی ہیں۔ اِن شبہات کا ازالہ اس طرح پر ہے کہ یک چشم سے مراد درحقیقت یک چشم نہیں۔اللہ جلَّ شَانُہٗ قرآن کریم میں فرماتاہے 33 ۱؂ کیا اس جگہ نابینائی سے مراد جسمانی نابینائی ہے بلکہ روحانی نابینائی مراد ہے اورمطلب یہ ہے کہ دجّال میں دینی عقل نہیں ہوگی اورگودنیا کی عقل اس میں تیز ہوگی اور ایسی حکمتیں ایجادکرے گا اور ایسے عجیب کام دکھلائے گا کہ گویا خدائی کا دعویٰ کررہا ہے لیکن دین کی آنکھ بالکل نہیں ہوگی۔ جیسے آج کل یورپ اور امریکہ کے لوگوں کاحال ہے کہ دنیا کی تدبیروں کا انہوں نے خاتمہ کردیاہے۔ اورحدیث میں جو کَاَنِّی کا لفظ موجود ہے وہ بھی دلالت کر رہا ہے جو یہ ایک کشفی امر اور لائق تعبیر ہے جیساکہ ملّا علی قاری نے اسی کی طرف اشارہ کیاہے۔ اورؔ یاجوج ماجوج کی نسبت تو فیصلہ ہوچکا ہے جو یہ دنیاکی دو بلند اقبال قومیں ہیں جن میں سے ایک انگریز اوردوسرے روس ہیں۔ یہ دونوں قومیں بلندی سے نیچے کی طرف حملہ کررہی ہیں یعنی اپنی خداد اد طاقتوں کے ساتھ فتحیاب ہوتی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کی بدچلنیوں نے مسلمانوں کو نیچے گرادیا۔ اور اُن کی تہذیب اور متانت شعاری اورہمت اوراُلوالعزمی اورمعاشرت کے اعلیٰ اصولوں نے بحکم و مصلحت قاد ر مطلق ان کو اقبال دے دیا۔ان دونوں قوموں کا بائبل میں بھی ذکر ہے۔ اور دآبۃُ الارض سے مراد کوئی لایعقل جانورنہیں بلکہ بقول حضرت علی رضی اللہ عنہ آدمی کا نام ہی دآبۃُ الارض *ہے۔ اور اس جگہ لفظ دآبۃُالارض سے ایک ایسا طائفہ انسانوں کا آثارالقیامہ میں لکھا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے پوچھا گیا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ دآبۃُالارض آپ ہی ہیں تب آپ نے جواب دیا کہ دآبۃ الارض میں تو کچھ چارپایوں اور کچھ پرندوں کی بھی مشابہت ہو گی۔ مجھ میں وہ کہاں ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ دآبۃ الارض اسم جنس ہے جس سے ایک طائفہ مراد ہے۔ منہ