اسلام کے نظر آتے ہیں کیا کوئی فتنہ اندازی کاکام خیال میں آسکتا ہے جو ان لوگوں نے نہیں کیا۔ کیا دین اسلام کے مٹانے والی تدبیریں کوئی ایسی بھی باقی رہ گئی ہیں جو ان کے ہاتھ سے ظہور میں نہیں آئیں۔اب انصاف کرنا چاہیئے کہ جس حالت میں دنیا کی ابتدا سے آج تک تلبیسکے تمام کاموں میں اور دجّالیت کے تمام طریقوں میں انہیں لوگوں کانمبر سب سے اوّل معلوم ہوتاہے اور اِس قسم کی وبا کے پھیلانے میں دنیا کے صفحہ میں اول سے آج کے دن تک کوئی نظیر ان کی معلوم نہیں ہوتی اور ان لوگوں کی زہر ناک تاثیروں نے بعض لوگوں کو تو پورے طورپر ہلاک کردیا ہے۔ اور بعض کا مفلوج کی طرح نصف حصہ بیکارکردیاہے اور بعض کے خون میں جذامیوں کی طرح فساد ڈال دیا ہے۔ جن کے چہروں پر بڑے بڑے داغ جذام کے نظر آتے ہیں اوربعض کی آنکھوں پرایسا ہاتھ پھیر دیا ہے کہ اب اُن کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔اورنوکر سٹانوں کی ذرّیت کے پھیلنے کی وجہ سے مادرزاد اندھوں کی بھی جماعت بڑھتی جاتی ہے اورؔ کروڑہا تیرہ طبع لوگوں میں ناپاک روحیں شور کررہی ہیں۔ غرض اس وبا پھیلانے والی ہوا کی وجہ سے ایسا زمانہ آگیا ہے کہ کروڑہا جذامی اور کروڑہا مادر زاد اندھے اورکروڑہا مفلوج اور کروڑہا مُردوں کی لاشیں سڑی گلی ہوئی نظر آرہی ہیں۔اب پھر مَیں کہتا ہوں کہ کیااُن کے لئے کوئی مسیح ابن مریم مُحی اموات نہیں آنا چاہیئے تھا جس حالت میں ایسا مسیح دجّال آگیا تو کیا مسیح ابن مریم نہ آتا ؟
اب یہ شبہات پیش کئے جاتے ہیں کہ دجّال دائیں آنکھ سے کاناہو گا اور یاجوج ماجوج اسی زمانہ میں ظہور کریں گے اور دابۃ الارض بھی آئے گا اور دُخان بھی اور طلوع شمس مغرب کی طرف سے ہوگا اور امام محمد مہدی بھی اس وقت ظہورکرے گا اور دجّال کے ساتھ بہشت اور دوزخ ہوگا اور زمین کے خزانے بھی اس کے ساتھ ہوں گے اورایک پہاڑ روٹیوں کابھی ساتھ ہوگا۔اورایک گدھابھی ہوگا اور دجّال اپنے شعبدے دکھائے گا اورؔ آسمان اور زمین دونوں اس کے حکم میں ہوں گے جس قوم پر چاہے بارش نازل کرے