اور کافرستان کے وحشی لوگوں اور افریقہ کے جنگلی آدمیوں کے پاس جاتے ہیں اور اسی غرض سے ہمیشہ خشکی اور تری کا سفرکرتے رہتے ہیں تا کسی شخص کو اپنے دام میں لاویں۔ حضرت آدم سے آج تک جو متفرق طور پر گمراہ کرنے کے لئے لوگوں نے فریب کئے ہیں اِن مشنوں میں اُن تمام کا مجموعہ پایا جاتاہے۔ کوئی شخص اگر ایک سال تک سوچتا رہے اور گمراہ کرنے کے جدید جدید فریب نکالے تو آخر جب غورکر کے دیکھے گا تووہ سب فریب ان مشنوں میں پائے گا۔ بہت جگہ ان لوگوں نے ڈاکٹری عہدے بھی حاصل کئے ہیں تااگر اورنہیں تو مصیبت زدہ بیمار ہی قابو آویں۔بہت سا غلّہ اس غرض سے خریداجاتا ہے کہ تا اگر قحط پڑے تو قحط زدہ لوگوں کووہ غلّہ مفت دیاجاوے اور کچھ وعظ بھی سُنادیاجائے۔اکثر جگہ دیکھا گیاہے کہ اتوار کے دن پادری صاحبان کا خیرات خانہ کھلتاہے اور بہت سے مسکین اکٹھے ہوجاتے ہیں اور مناسب وقت کچھ کچھ وعظ کے طورپر اُن کو سُناکر پھر پیسے ٹکے اُنؔ کو دئے جاتے ہیں۔ بہت سی ایسی مِسّوں نے جو پادری کامنصب رکھتی ہیں دونوں وقت لوگوں کے گھروں میں پھرنا اختیار کررکھا ہے اوراشرافوں کی لڑکیوں کو سینا پرونا اور کئی قسم کا سوئی کاکام سکھلاتی ہیں اور رہزنی کے لئے آلۂ نقب بھی بغل میں ہوتا ہے موقعہ پر وہ حربہ بھی چلایا جاتا ہے۔ چنانچہ کئی جوان لڑکیاں اچھے اچھے خاندانوں کی سیّد اورشیخ اورمغل اورنوابوں اور شہزادوں کی اولاد کہلا کر پھر مِس صاحبوں کی کوششوں سے عیسائی جماعت میں جاملی ہیں۔ اور جن مستورہ اور شریفہ عورتوں نے کبھی مدت العمر غیر آدمی کی شکل بھی نہ دیکھی تھی اب وہ عیسائی ہوکر نامحرموں کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کرپھرتی ہیں۔ پاک محبت کے خیال سے نامحرم اگر بوسہ بھی لے لیں تو کچھ بُرا نہیں سمجھاجاتا۔اور یاتوانہوں نے کبھی شراب کانام بھی نہ سُنا تھا اوریا اس خبیث عرق کی دن رات خُوب مشق ہورہی ہے اور برانڈی، شیری، وہسکی، رَم ‘پوٹ، وائن وغیرہ شرابوں کے نام نوک زبان ہورہے ہیں۔ اسی طرح ہزارہا لاوارث بچے مسلمانوں کے انؔ لوگوں کے قبضہ میں آکراور اُن کے تلبیسات کی تعلیم پا کر اب پکّے دشمن