اور اس کی کامیابیوں میں کوئی اِ ن لوگوں کا نظیرنہیں اور ان کے ان ساحرانہ کاموں میں کوئی ان کے مساوی نہیں۔ اور چونکہ احادیث صحیحہ میں دجال معہود کی یہی علامت لکھی ہے کہ وہ ایسے فتنے برپا کرے گا کہ جہاں تک اس وقت سے ابتدائے دنیا کے وقت تک نظر ڈالیں اس کا نظیرنہیں ملے گالہٰذا اس بات پر قطع اور یقین کرناچاہیئے کہ وہ مسیح دجّال جو گرجا سے نکلنے والا ہے یہی لوگ ہیں جن کے سحرکے مقابل پر معجزہ کی ضرورت تھی۔اور اگر انکار ہے تو پھر زمانہ گذشتہ کے دجّالین میں سے ان کی نظیر پیش کرو۔ اب یہ سوال جو کیاجاتاہے کہ ضرور ہے کہ مسیح ابن مریم سے پہلے دجّال آگیا ہو۔ اس کا جواب ظاہرہو گیا اور بپایہ ثبوت پہنچ گیا کہ مسیح دجّال جسؔ کے آنے کی انتظار تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے جوٹڈی کی طرح دنیامیں پھیل گیاہے۔ سو اے بزرگو! دجّال معہود یہی ہے جو آچکا مگر تم نے اُسے شناخت نہیں کیا۔ہاتھ میں ترازو لو اور وزن کرکے دیکھوکہ کیا ان سے بڑھ کرکوئی اور ایسا دجّال آنا ممکن ہے جوفریبوں میں ان سے زیادہ ہو۔ اس دجّال کے لئے جو تمہارے وہم میں ہے تم لوگ بار بار یہ حدیث پیش کرتے ہو کہ اس قدر اس کا بڑافتنہ ہوگاکہ ستر ہزار مسلمان اس کا معتقد ہوجائے گا۔ لیکن اس جگہ تولاکھوں آدمی دین اسلام کو چھوڑ گئے اورچھوڑتے جاتے ہیں تمہاری عورتیں،تمہارے بچے، تمہارے پیارے دوست،تمہارے بڑے بڑے بزرگوں اور ولیوں کی اولاد،تمہارے بڑے بڑے خاندانوں کے آدمی اس دجّالی مذہب میں داخل ہوتے جاتے ہیں۔کیا یہ اسلام کے لئے سخت ماتم کی جگہ نہیں۔ سوچ کردیکھو کہ کس قدر ان لوگوں کے فتنوں نے دامن پھیلا رکھا ہے اور کس قدر ان لوگوں کی کوششیں انتہا ء تک پہنچ گئی ہیں کیا کوئی ایسا بھی دقیقہ فریب اور مکر کا ہے جو انہوں نے رہزنی کے لئے استعمال نہیں کیا۔ کروڑہا کتابیں اسی غرض سے ملکوں میں پھیلائیں۔ہزارہا واعظ اورمنّاد اسی غرض کے لئے جابجا چھوڑ دئے۔ کروؔ ڑہا روپیہ اسی راہ میں خرچ ہورہاہے۔ نہایت دشوارگزارراہوں سے پُر خطر پہاڑوں اور یاغستان کے ملک