کر کے شائع کئے۔ رسالہ فتح اسلام کے ۴۶صفحہ کے حاشیہ کو پڑھ کردیکھو کہ اکیس سال میں اِن لوگوں نے اپنے پُر تلبیس خیالات کے پھیلانے کے لئے سات کروڑ سے کچھ زیادہ کتابیں مفت تقسیم کی ہیں تا کسی طرح اسلام سے لوگ دستبردارہوجائیں اور حضرت مسیح کو خدامان لیاجائے۔ اللہ اکبر اگر اب بھی ہماری قوم کی نظر میں یہ لوگ اوّل درجہ کے دجّال نہیں اور ان کے الزام کے لئے ایک سچے مسیح کی ضرورت نہیں تو پھر اس قوم کا کیا حال ہوگا۔ دیکھو! اے غافلو دیکھو ! !کہ اسلامی عمارت کے مسمار کرنے کے لئے کس درجہ کی یہ کوشش کررہے۔اورکس کثرت سے ایسے وسائلؔ مہیّا کئے گئے ہیں اور اُن کے پھیلانے میں اپنی جانوں کو بھی خطرہ میں ڈال کر اور اپنے مال کو پانی کی طرح بہا کر وہ کوششیں کی ہیں کہ انسانی طاقتوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ نہایت شرمناک ذریعے اور پاکیزگی کے برخلاف منصوبے اس راہ میں ختم کئے گئے اور سچائی اور ایمانداری کے اُڑانے کے لئے طرح طرح کی سرنگیں طیارکی گئیں اوراسلام کے مٹادینے کے لئے جھوٹ اور بناوٹ کی تمام باریک باتیں نہایت درجہ کی جانکاہی سے پیدا کی گئیں۔ ہزارہا قصے اور مباحثات کی کتابیں محض افترا کے طور پر اور محض اس غرض سے بنائی گئیں۔ تااگر اور طریق سے نہیں تو اسی طریق سے دلوں پر بداثر پڑے۔ کیا کوئی ایسا رہزنی کا طریق ہے جوایجاد نہیں کیاگیا؟۔ کیاکوئی ایسی سبیل گمراہ کرنے کی باقی ہے جس کے یہ مُوجد نہیں ؟ پس ظاہر ہے کہ یہ کرسچن قوموں اورتثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساحرانہ کارروائیاں ہیں اورسحرکے اس کامل درجہ کا نمونہ ہے جو بجُز اوّل درجہ کے دجّال کے جو دجّال معہُود ہے اور کسی سے ظہور پذیر نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا انہیں لوگوں کو جو پادری صاحبوں کا گروہ ہےؔ دجّال معہود ماننا پڑا۔ اورجبکہ ہم دنیا کے اس اکثر حصّہ کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھتے ہیں جو گذر چکا توہماری نظر اس استقرائی شہادت کو ساتھ لے کر عود کرتی ہے کہ زمانہ کے سلسلہ گذشتہ میں جہاں تک پتہ مل سکتا ہے دجّالیت کی صفت