تصریحًا یااجمالًا، اشارتًا یا کنایتًا خبر دی ہے۔ حضرت نوح سے لے کر ہمارے سیّد ومولیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمبارک تک اس مسیح دجّال کی خبر موجود ہے جس کو میں دلائل کے ساتھ ثابت کرسکتاہوں۔ اور جس قدر اسلام کو اِن لوگوں کے ہاتھ سے ضرر پہنچا ہے اور جس قدر انہوں نے سچائی اور انصاف کاخون کیا ہے اِن تمام خرابیوں کا کون اندازہ کرسکتاہے۔ہجرت مقدّسہ کی تیرھویں صدی سے پہلے ان تمام فتنوں کا نام و نشان نہ تھا اور جب تیرھویں صدی کچھ نصف سے زیادہ گذر گئی تو یکدفعہ اس دجّالی گروہ کا خروج ہوا اور پھر ترقی ہوتی گئی یہاں تک کہ اس صدی کے اواخر میں بقول پادری ہیکر صاحب پانچؔ لاکھ تک صرف ہندوستان میں ہی کرسٹان شدہ لوگوں کی نوبت پہنچ گئی اور اندازہ کیا گیا کہ قریبًا بارہ سال میں ایک لاکھ آدمی عیسائی مذہب میں داخل ہوجاتا ہے جو ایک عاجزبندہ کوخداخدا کرکے پکارتا ہے اس بات سے کوئی دانابے خبرنہیں کہ ایک جماعت کثیر اسلام کی یا یوں کہو کہ اسلام کے بھوکوں اور ننگوں کا ایک گروہ پادری صاحبوں نے صرف روٹیاں اور کپڑے دکھلا کر اپنے قبضہ میں کرلیا ہے اور جو روٹیوں کے ذریعہ سے قابو نہ آئے وہ عورتوں کے ذریعہ سے اپنے پنجہ میں کئے گئے اور جو اس طرح پربھی دام میں پھنس نہ سکے اُن کے لئے مُلحد اور بے دین کرنے والا فلسفہ پھیلایا گیا جس میں آج لاکھوں نَوخیزبچے مسلمانوں کے گرفتار اور مبتلا پائے جاتے ہیں جو نماز پر ہنستے اور روزہ کو ٹھٹھے سے یادکرتے اور وحی الٰہی کو ایک خواب پریشان خیال کرتے ہیں۔اور جولوگ اس لائق بھی نہیں تھے کہ انگریزی فلسفہ کی تعلیم پاویں اُن کے لئے بہت سے بناوٹی قصّے جو محض پادری صاحبوں کے بائیں ہاتھ کا کرتب تھا جن میں کسی تاریخ یا کہانی کے پیرایہ میں ہجوِ اسلام درج تھی عام طور پر شائع کردئے گئے اورؔ پھر اسلام کے ردّ میں اور ہمارے سیّد ومولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں بے شمار کتابیں تالیف کرکے اِن لوگوں نے ایک دنیا میں مفت تقسیم کیں اور اکثر کتابوں کے بہت سی زبانوں میں ترجمے