اور خدائی کا دعویٰ کررہا ہے۔ سو حضرت مسیح ابن مریم نے خدائی کا دعویٰ ہرگز نہیں کیا۔ یہ لوگ خود اس کی طرف سے وکیل بن کر خدائی کا دعویٰ کررہے ہیں اور اس دعویٰ کے سرسبز کرنے کے لئے کیا کچھ انہوں نے تحریفیں نہیں کیں۔اور کیا کچھ تلبیس کے کام استعمال میں نہیں لائے اور مکہ اور مدینہ چھوڑ کر اَور کونسی جگہ ہے جہاں یہ لوگ نہیں پہنچے۔ کیا کوئی دھوکہ دینے کاکام یا گمراہ کرنے کامنصوبہ یا بہکانے کاکوئی طریقہ ایسا بھی ہے جو اُن سے ظہور میں نہیں آیا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ یہ لوگ اپنے دجّالانہ منصوبوں کی وجہ سے ایک عالم پردائرہ کی طرح محیط ہوگئے ہیںؔ ۔ جہاں یہ لوگ جائیں اورجہاں اپنا مشن قائم کریں ایک عالم کو تہ وبالا کردیتے ہیں۔ دولتمند اس قدر ہیں کہ گویا دنیا کے تمام خزانے اُن کے ساتھ ساتھ پھرتے ہیں اگرچہ گورنمنٹ انگریزی کو مذاہب سے کچھ سروکار نہیں اپنے شاہانہ انتظام سے مطلب ہے مگر درحقیقت پادری صاحبوں کی بھی ایک الگ گورنمنٹ ہے جو بے شمار روپے کی مالک اورگویا تمام دنیا میں اپنا تاروپود پھیلا رہی ہے اور ایک قسم کا جنت اور جہنّم اپنے ساتھ ساتھ لئے پھرتے ہیں۔جوشخص اُن کے مذہب میں آنا چاہتاہے اس کو وہ جنت دکھلایاجاتاہے اورجو شخص اُ ن کا اشدّ مخالف ہوجائے اس کے لئے جہنم کی دھمکی ہے۔ ان کے گھرمیں روٹیاں بہت ہیں گویا ایک پہاڑ روٹیوں کا جس جگہ رہیں ساتھ رہتا ہے۔اور اکثر شکم بندہ لوگ اُن کی سفید سفید روٹیوں پر مفتون ہو کر ربنا المسیحکہنا شروع کردیتے ہیں۔ مسیح دجّال کی کوئی بھی ایسی علامت نہیں جو اُن میں نہ پائی جائے۔ ایک وجہ سے یہ مُردوں کو بھی زندہ کرتے ہیں اور زندوں کو مارتے ہیں (سمجھنے والا سمجھ لے) اوراس میں تو شک نہیں کہ اُن کی آنکھ ایک ہی ہے جو بائیں ہے اگر اُنؔ کی دائیں آنکھ موجود ہوتی تو یہ لوگ خدائے تعالیٰ سے ڈرتے اور خدائی کے دعوے سے باز آتے۔ بے شک یہ بھی سچ ہے کہ پہلی کتابوں میں اس قوم دجال کا ذکر ہے حضرت مسیح ابن مریم نے بھی انجیل میں بہت ذکر کیا ہے پہلے صحیفوں میں بھی جابجا ان کا ذکر پایاجاتا ہے۔ بلاشبہ ایسا ہی چاہیئے تھا کہ ہر یک نبی اس مسیح دجّال کے آنے کی پہلے سے خبر دیتا۔سو ہریک نے