کم نہیں جو اس عاجزنے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہو کر اِن دجّال سیرت لوگوں پر کیا ہے جن کو پاک چیزیں دی گئی تھیں مگر انہوں نے ساتھ اس کے پلید چیزیں ملادیں اور وہ کام کیا جو دجّال کو کرنا چاہیئے تھا۔ ابؔ یہ سوال بھی قابل حل ہے کہ مسیح ابن مریم تو دجّال کے لئے آئے گا آپ اگر مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہو کر آئے ہیں تو آپ کے مقابل پر دجّال کون ہے ؟ اس سوال کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ گو میں اس بات کو تومانتا ہوں کہ ممکن ہے کہ میرے بعد کوئی اور مسیح ابن مریم بھی آوے اور بعض احایث کی رو سے وہ موعود بھی ہو اور کوئی ایسا دجّال بھی آوے جو مسلمانوں میں فتنہ ڈالے۔ مگر میرا مذہب یہ ہے کہ اس زمانہ کے پادریوں کی مانند کوئی اب تک دجّال پیدا نہیں ہوا اورنہ قیامت تک پیداہوگا۔ مسلم کی حدیث میں ہے وعن عمران بن حصین قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول ما بین خلق اٰدم الیٰ قیام الساعۃ امر اکبر من الدجّال یعنی عمران ابن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیدائش آدم سے قیامت تک کوئی امر فتنہ اور ابتلاء کے روسے دجّال کے وجود سے بڑھ کر نہیں۔اب اوّل تو یادرکھنا چاہیئے کہ لغت میں دجّال جھوٹوں کے گروہ کو کہتے ہیں جو باطل کو حق کے ساتھ مخلوط کردیتے ہیں اور خلق اللہ کے گمراہؔ کرنے کے لئے مکر اور تلبیس کو کام میں لاتے ہیں۔اب میں دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ مطابق منشاء مسلم کی حدیث کے جو ابھی میں بیان کرآیا ہوں اگر ہم حضرت آدم کی پیدائش سے آج تک بذریعہ ان تما م تحریری و سائل کے جو ہمیں ملے ہیں دنیا کے تمام ایسے لوگوں کی حالت پر نظر ڈالیں جنہوں نے دجالیت کا اپنے ذمہ کام لیا تھا تو اس زمانہ کے پادریوں کی دجّالیت کی نظیر ہرگز ہم کو نہیں ملے گی۔انہوں نے ایک موہومی اورفرضی مسیح اپنی نظر کے سامنے رکھا ہوا ہے جوبقول اُن کے زند ہ ہے