آخری زمانہ میں اس کی جگہ لی اور گرجا سے نکل کر مشارق ومغارب میں پھیل گیا اس تقریر سے مثیلیت کا محاورہ اور بھی ثابت ہوتاہے۔ جو دونوں طور کے مسیحوںؔ طیّب و خبیث میں دائر وسائر ہے۔ اگر یہ کہاجائے کہ حدیثوں میں تو صرف اتنا لفظ آیا ہے کہ مسیح ابن مریم اُترے گا اور دجّال خروج کرے گا پھر ان دونوں کے ساتھ مثیل کالفظ کیوں ملایا جاتاہے۔کیا یہ الحاد نہیں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعد اس کے کہ ہم نصوص قطعیہ بیّنہ سے ثابت کرچکے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم جن پر انجیل نازل ہوئی تھی وفات پا چکے ہیں اور ایسا ہی دجّال بھی فوت ہوچکا۔اور اُن کے زندہ ہونے کاکوئی ذکر قرآن کریم اوراحادیث میں موجود نہیں۔ بلکہ آیات بیّنہ اُن کے دنیا میں واپس آنے سے سخت انکار کرتی ہیں۔ تو اس صورت میں اگرہم آنے والے مسیح اور دجّال سے اُن کے مثیل مراد نہ لیں تو اورکیاکریں۔ہاں اگر حدیثوں میں یہ لفظ وارد ہوتے کہ وہ مسیح ابن مریم جو فوت ہوچکا ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی اور وہ دجّال جو جزیرہ میں مقیّد تھا جس کے ساتھ جساسہ تھے وہی دونوں زندہ ہو کر آخری زمانہ میں آجائیں گے تو پھر تاویل کی گنجائش نہ ہوتی۔ مگر اب تاویل نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے اور چونکہ بحکم علماء امّتی کانبیاء بنی اسرائیل ابن مریم کے نام پر کوئی آنا چاہیئے تھا اور آنا بھی وہ چاہیئے تھا جو درحقیقت اُمّتی ہو نہ کہ حقیقی طور پر نبی۔ لہٰذا یہ ضروری تھا کہ ابن مریم کی جگہ کوئی ایسا اُمتی ظاہر ہو جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک ابن مریم کے رنگ میں ہے۔ سو خدائے تعالیٰ نے مسیح ابن مریم کامثیل عین وقت میں بھیج کر اُسی مثیل کی معرفت مسیح ابن مریمؔ کا فی الواقعہ فوت ہوجانا ظاہر کردیااورسب دلائل اس کے کھول دئے۔ اگر خدانخواستہ سچ مچ فرقان کریم میں لکھا ہوتا کہ مسیح برخلاف اس سُنّت اللہ کے جو تمام بنی آدم کے لئے جاری ہے زندہ آسمان کی طرف اُٹھایا گیااور قیامت کے قریب تک زندہ ہی رہے گا تو عیسائیوں کو بڑے بڑے سامان بہکانے کے ہاتھ آجاتے۔ سو بہت ہی خوب ہوا کہ عیسائیوں کاخدا فوت ہوگیا اور یہ حملہ ایک برچھی کے حملہ سے