ایسے اُس کے آگے جھکیں جیسے خدائے تعالیٰ کے آگے جھکنا چاہیئے اور خدائے تعالیٰ کی فرمانبردای پر چڑتا ہے اور اس کے احکام کو ذلیل اور خوار سمجھتا ہے اوراپنے احکام کو قابل عزت خیال کرتاہے اور اپنی اطاعت کو خدائے تعالیٰ کی اطاعت پر مقدّم رکھناچاہتاہے وہ حقیقت میں خدائی کادعویٰ کررہا ہے۔اگرچہ قال سے نہیں مگر حال سے ضرور یہ دعویٰ اُس سے صادر ہوتاہے بلکہ قال سے بھی دعویٰ کرتاہے کیونکہ چاہتاہے کہ لوگ اس کو خداوند خداوند کہیں۔ سو اسی قسم کا دجّال کا دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔
اس تمام تقریر سے معلوم ہوا کہ مسیح ابن مریم کے مثیل کی طرح دجّال کا بھی مثیل ہی آنے والاہے یعنی ایسا گروہ جو باعتبار اپنی سیرت و خاصیت کے پہلے دجّال کا ہمرنگ ہو۔ لیکن اس طرز تقریر کے اختیار کرنے میں کہ مثیل مسیح اُترے گا اور مثیل دجّال خروج کرے گا یہ حکمت ہے تا ظاہرکیاجائے کہ دجّال کا آنا بطور بلا وابتلا کے ہو گا اور مسیح کا آنا بطور ایسی نعمت کے جو بارادۂ خاص الٰہی مومنوں کی نصرت کے لئے نازل ہوتی ہے جیساؔ کہ قرآن شریف میں ہے کہ ہم نے تمہارے لئے لوہا اُتارا اور تمہارے لئے مویشی اُتارے یعنی تمہارے فائدہ کے لئے بطور رحمت یہ چیزیں پیدا کیں۔اور یہ بھی ہے کہ جو چیز زمین سے نکلتی ہے وہ ظلمت اور کثافت رکھتی ہے اور جو اُوپر سے آتی ہے اس کے ساتھ نور و برکت ہوتی ہے اور نیز اُوپر سے آنے والی نیچے والی پر غالب ہوتی ہے۔ غرض جو شخص آسمانی برکتیں اور آسمانی نور ساتھ رکھتاہے اُس کے آنے کے لئے نزول کا لفظ مناسب حال ہے اور جس کے وجود میں زمینی ظلمت اور خبث اورکدورت بھری ہوئی ہے اس کے ظہور کے لئے خروج کا لفظ مناسبت رکھتاہے۔ کیونکہ نورانی چیزیں آسمان سے ہی نازل ہوتی ہیں جو ظلمت پر فتح پاتی ہیں۔ اب اس تحقیق سے ظاہر ہو گیا کہ جیسے مثیل مسیح کو مسیح ابن مریم کہا گیا اس امر کو نظر میں رکھ کر کہ اس نے مسیح ابن مریم کی روحانیت کو لیا اور مسیح کے وجود کو باطنی طور پر قائم کیا۔ایسا ہی وہ دجّال جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فوت ہوچکاہے اس کی ظل اور مثال نے اِس