تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حتمی حدیثوں کی تکذیب لازم آتی ہے اور اس حدیث میں دجّال کا یہ قول انی انا المسیح وانی ان یوشک ان یوذن لی فی الخروج جو زیادہ تر اس کے مسیح دجّال ہونے پر دلالت کرتا ہے بظاہر اس شبہ میں ڈالتا ہے کہ آخری زمانہ میں وہ نکلنے والاہے۔لیکن بہت آسانی سے یہ شبہ رفع ہوسکتا ہے جبکہ اس طرح پر سمجھ لیں کہ یہ عیسائی دجّال بطور مورث اعلیٰ کے اس دجّال کے لئے ہے جوعیسائی گروہ میں ہی پیداہوگااور گرجا میں سے ہی نکلے گا۔اور ظاہر ہے کہ وارث اور موروث کاوجود ایک ہی حکم رکھتا ہے اور ممکن ہے کہ اس بیان میں استعارات ہوں اورزنجیروں سے مراد وہ موانع ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائی واعظوں کو روک رہے تھے اور وہ مجبورہوکر گویا ایک جگہ بند تھے۔ اورؔ یہ اشارہ ہوکہ آخری زمانہ میں بڑی قوت کے ساتھ ان کا خروج ہوگا جیسا کہ آج کل ہے۔ اس جگہ یہ بھی یادرہے کہ حدیث مذکورہ بالا میں اس دجا ل نے خدائی کا دعوےٰ نہیں کیا بلکہ فقرہ وانی یوشک ان یوذن لی صاف دلالت کررہا ہے کہ دجّال کو خدائے تعالیٰ کے وجود کا اقرارہے۔اور حدیثوں میں کوئی ایسالفظ پایا نہیں جاتا جس سے معلوم ہوکہ جساسہ والا دجّال اپنے آخری ظہورکے وقت میں بالجہر خالق السمٰوٰت والارض ہونے کا دعویٰ کرے گا۔ لیکن معلوم ہوتاہے کہ تکبّرکی راہ سے خداوند خداوند کہلائے گا جیسے اُن لوگوں کا طریقہ ہوتا ہے جو خدائے تعالیٰ کو بکلّی فراموش کردیتے ہیں اور اس کی پرستش اور اطاعت سے کچھ غرض نہیں رکھتے اور چاہتے ہیں کہ لوگ ان کو ربّی ربّی کہیں یعنی خداوند خداوند کرکے پکاریں اورایسی اُن کی اطاعت کریں جیسی خدائے تعالیٰ کی کرنی چاہیئے۔ اوریہی بدمعاشی اور غفلت کا اعلیٰ درجہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی تحقیر دل میں بیٹھ جائے۔ مثلًا ایک ایسا امیر ہے کہ نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے کہ واہیات کام ہے اس سے کیا فائدہ۔اورروزہ پر ٹھٹھا کرتاہے۔اورخدائے تعالیٰ کی عظمت کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتا اور اس کی آسمانی تقدیروں کا قائل نہیں بلکہ اپنی تدبیروں اور مکروؔ ں کو تمام کامیابیوں کا مدار سمجھتاہے اور چاہتاہے کہ لوگ