کے مراتب میں کہاں تک ترقی کی ہے اور وہ سطریں یہ ہیں۔
مولٰنا مرشدنا امامنا السلام علیکم ورحمة اللہ و بر کاتہ‘۔ عالی جناب میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدّد کیا گیا وہ مطالب حاصل کروں۔ اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفا دے دُوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طر ف بلاﺅں اور اسی راہ میں جان دُوں۔ میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔ میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔ حضرت پیرو مرشد مَیں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال ودولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔ اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنیٰ خدمت بجالاﺅں کہ اُن کی تمام قیمت ادا کر دہ اپنے پاس سے واپس کر دُوں۔ حضرت پیرو مرشد نابکار شرمسار عرض کرتا ہے اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔ میرا منشاءہے کہ براہین کے طبع کاتمام خرچ میرے پر ڈال دیا جائے پھر جو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔ مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے طیّار ہوں۔ دعا فرماویں کہ میری موت صدّیقوں کی موت ہو۔