مولوی صاحب ممدوح کا صدق اور ہمّت اور اُن کی غمخواری اور جان نثاری جیسے اُن کے قال سے ظاہر ہے اس سے بڑھ کر اُن کے حال سے اُن کی مخلصانہ خدمتوں سے ظاہر ہو رہا ہے اور وہ محبت اور اخلاص کے جذبہ کاملہ سے چاہتے ہیں کہ سب کچھ یہاں تک کہ اپنے عیال کی زندگی بسر کرنے کی ضروری چیزیں بھی اسی راہ میں فدا کر دیں۔ اُن کی رُوح محبت کے جوش اور مستی سے اُن کی طاقت سے زیادہ قدم بڑھانے کی تعلیم دے رہی ہے اور ہر دم اور ہر آن خدمت میں لگے ہوئے ہیں ٭ لیکن یہ نہایت درجہ کی بے رحمی ہے کہ ایسے جان نثار پر وہ سارے فوق الطاقت بوجھ ڈال دیئے جائیں جن کو اُٹھانا ایک گروہ کا کام ہے۔ بیشک مولوی صاحب اس خدمت کو بہم پہنچانے کے لئے تمام جائداد سے دست بردار ہوجا نا اور ایّوب نبی کی طرح یہ کہنا کہ ”میں اکیلا آیا اور اکیلا جاﺅں گا“قبول کر لیں گے لیکن یہ فریضہ تمام قوم میں مشترک ہے اور سب پر لازم ہے کہ اس پُر خطر اور پُرفتنہ زمانہ میں کہ جو ایمان کے ایک نازک رشتہ کو جو خدا اور اُس کے بندے میں ہونا چاہیئے بڑے زور شور کے ساتھ جھٹکے دے کر ہلا رہا ہے اپنے اپنے حُسن خاتمہ کی فکر کریں اور وہ اعمال صالحہ جن پر نجات کا انحصار ہے اپنے پیارے مالوں کے فدا کرنے اور پیارے وقتوں کو خدمت میں لگانے سے حاصل کریں اور خدا تعالیٰ کے اُس غیر متبّدل اور مستحکم قانون سے ڈریں جو وہ اپنے کلام عزیز
حضرت مولوی صاحب علوم فقہ اور حدیث اور تفسیر میں اعلیٰ درجہ کے معلومات رکھتے ہیں۔ فلسفہ اور طبعی قدیم اور جدید پر نہایت عمدہ نظر ہے۔ فن طبابت میں ایک حاذق طبیب ہیں ہر ایک فن کی کتابیں بلاد مصر و عرب و شام و یورپ سے منگوا کر ایک نادر کتب خانہ طیار کیا ہے اور جیسے اور علوم میں فاضل جلیل ہیں مناظرات دینیہ میں بھی نہایت درجہ نظر وسیع رکھتے ہیں۔ بہت سی عمدہ کتابوں کے مو ¿لف ہیں۔ حال میں کتاب تصدیق براہین احمدیہ بھی حضرت ممدوح نے ہی تالیف فرمائی ہے جو ہر ایک محققانہ طبیعت کے آدمی کی نگاہ میں جواہرات سے بھی زیادہ بیش قیمت ہے۔ منہ