ہے تووہ ایسا ٹھنڈا ہو جاتا ہے کہ گویا اُس میں کبھی آگ نہیں تھی۔ تب وہ ترقی پر ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی روح اُس میں سکونت کرتی ہے اور ایک تجلّی خاص کے ساتھ رَبُّ العَالَمِین کا استویٰ اس کے دل پر ہوتا ہے تب پورانی انسانیت اس کی جل کر ایک نئی اور پاک انسانیت اُس کو عطا کی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ بھی ایک نیا خدا ہو کر نئے اور خاص طور پر اُس سے تعلق پکڑتا ہے اور بہشتی زندگی کا تمام پاک سامان اسی عالم میں اُس کو مل جاتا ہے۔
اِ س جگہ میَں اس بات کے اظہار اور اس کے شکر کے ادا کرنے کے بغیر رہ نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔ میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہو نیوالے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔ نہ مَیں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔ سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام اُن کے نُورِ اخلاص کی طرح نور دین ہے میں اُن کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلاءکلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔ اُن کے دل میں جو تائید دین کے لئے جوش بھرا ہے اُس کے تصّور سے قدرت الٰہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو اُن کو میسّر ہیں ہر وقت اللہ رسول کی اطاعت کے لئے مستعد کھڑے ہیں اور میں تجربہ سے نہ صرف حُسن ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتا ہوں کہ اُنہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک دریغ نہیں۔ اور اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میںفدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔ اُن کے بعض خطوط کی چند سطریں بطورنمونہ ناظرین کو دکھلاتا ہوں تا انہیں معلوم ہو کہ میرے پیارے بھائی مولوی حکیم نور الدین بھیروی معالج ریاست جمّوں نے محبت اور اخلاص