کہ آخری زمانہ میں دجّال تولّد کے طورپر کسی عورت کے پیٹ سے پیداہوگا بلکہ بالاتفاق سلف وخلف یہی کہتے آئے ہیں کہ دجّال معہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھااور پھر آخری زمانہ میں بڑی قوت کے ساتھ خروج کرے گا۔اور اب تک وہ زندہ کسی جزیرہ میں موجود ہے۔مگر یہ خیال کہ اب تک وہ زندہ ہے ہرگز صحیح نہیں ہے۔مسلم کی دو حدیثیں مفصلہ ذیل اس خیالؔ کی بکلّی استیصال کرتی ہیں اور وہ یہ ہیں:۔
(۱)عن جابر قال سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قبل ان یموت بشھر تسئلونی عن الساعۃ وانما علمھا عنداللّٰہ واقسم باللہ ماعلی الارض من نفس منفوسۃ یاتی علیھا ماءۃ سنۃ وھی حیۃ یومئذٍ رواہ مسلم یعنی روایت ہے جابر سے کہ کہا سُنا میں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے مہینہ بھر پہلے اپنی وفات سے جو تکمیل مقاصدِ دین اور اظہار بقایا اسرار کا وقت تھاکہ تم مجھ سے پوچھتے ہوکہ قیامت کب آئے گی اور بجُز خدائے تعالیٰ کے کسی کو اس کا علم نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا نفس نہیں جو پیدا ہوگیاہو اورموجود ہو اور پھر آج سے سو برس اس پر گذرے اور وہ زندہ رہے۔
(۲) پھر دوسری حدیث صحیح مسلم کی یہ ہے وعن ابی سعید عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لایاتی ماءۃ سنۃ وعلی الارض نفس منفوسۃ رواہ مسلم یعنی ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں آویگی سو برس اس حال میں کہ زمین پرکوئی شخص بھی آج کے لوگوں میں سے زندہ موجود ہو۔
ابؔ اِن دونوں حدیثوں کی رو سے جن میں سے ایک میں ہمارے سیدو مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم بھی کھائی ہے اگرہم تکلفات سے تاویلیں نہ کریں تو صاف طورپر ثابت ہوتاہے کہ جسّاسہ والادجّال بھی ابن صیّاد کی طرح فوت ہوگیا ہے۔اسی کی نسبت علماء کا خیال ہے کہ آخری زمانہ میں نکلے گا اور حال یہ ہے کہ اگر اس کو آج تک زندہ فرض کیاجائے