ثابت نہیں تو خواہ نخواہ ایک مسلمان کے پیچھے پڑنااورؔ اس کو دجّال دجّال کرکے پکارنا اور پھر اس کی نسبت یہ یقین رکھنا کہ وہی ابن صیّاد یہودی الاصل آخری زمانہ میں پھر کفرکا جامہ پہن کر اور خدائی کا دعویٰ کرکے خروج کرے گا۔ میرے نزدیک بالکل نامناسب اور ایک مسلمان بھائی کی ناحق کی غیبت اور بدگوئی ہے جو آیت کریمہ 333 ۱ کے تحت میں داخل ہے۔ علاوہ اس کے ابن صیّاد سے اس کی کفر کی حالت میں بھی کوئی ایسا کام فتنہ اور شرارت کا صادر نہیں ہوا۔جس سے وہ اپنے وقت میں فتنہ انگیزی میں بے نظیر سمجھاگیاہو۔ پھر جب اس کے دل میں لاالٰہ الّا اللّٰہ کانور داخل ہوگیا اور تصدیق رسالت نبوی سے اس کا سینہ منوّر کیاگیا تو پھر شک کرنے کی کوئی وجہ بھی باقی نہ رہی۔ بے شک وہ حدیثیں نہایت حیرت انگیز ہیں جن میں یقین کے طورپر بیان کیاگیا ہے کہ مسیح دجّال یہی شخص ہے۔ اور اب ہم اُن کی کوئی تاویل نہیں کرسکتے بجز اس کے کہ یہ کہیں کہ جو آخری زمانہ میں دجّال پیداہونے کی خبر دی گئی ہے اس دجّال میں بعض صفات ابن صیّاد کی بھی ہوں گی اور کفر کی حالت میں جو کچھ مکر وفریب کی ابن صیّاد کو مشق تھی۔اورجو سیرت غفلت اور دلیری اوردھوکہ دہی اس میں موجود تھیؔ وہی صفتیں اور خصلتیں اس آنے والے دجّال میں بھی ہوں گی گویا وہ اس کا مثیل ہوگا اور اس کے کفر کی حالت کا رنگ اس میں پایا جائے گا۔
لیکن گرجا سے نکلنے والا دجّال جس کے بارے میں امام مُسلم نے اپنی صحیح میں فاطمہ بنت قیس سے روایت کی ہے اورجس کو نہایت درجہ کا قوی ہیکل اور زنجیروں سے جکڑاہوا بیان کیا ہے اور اس کے ایک جساسہ کی بھی خبر لکھی ہے۔اوریہ دجّال وہ ہے جس کو تمیم داری نے کسی جزیرہ کے ایک گرجا میں دیکھا کہ خوب مضبوط بندھاہوا تھا اور اس کے ہاتھ اس کی گردن کی طرف جکڑے ہوئے تھے اس دجّال پر علماء کی بہت نظر ہے کہ درحقیقت یہی دجّال ہے جو آخری زمانہ میں نکلے گا۔ اوریہ تو کسی کا بھی مذہب نہیں