اُٹھایاگیا ہے اسی طرح جس طرح تم نے اُسے آسمان کوجاتے دیکھا پھرآوے گا یہ ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے جو تم نے عالم کشف میں جو عالم مثال ہے مسیح کو آسمان کی طرف جاتے دیکھا اسی طرح مثالی طور پر اور مثالی وجود کے ساتھ مسیح پھر آوے گا جیساکہ ایلیا آیا اور یاد رہے کہ یہ تاویلات اس حالت میں ہیں کہ ہم ان عبارتوں کو صحیح اور غیر محرف قبول کرلیں۔ لیکن اس کے قبول کرنے میں بڑی دقتیں ہیں۔ جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ مسیح کا آسمان کی طرف اُٹھائے جانا انجیل کی کسی الہامی عبارت سے ہرگز ہرگزثابت نہیں ہوسکتا اور جنہوں نے اپنی اٹکل سے بغیر رویت کے کچھ لکھا۔اُن کے بیانات میں علاوہ اس خرابی کے کہ اُن کا بیان چشم دید نہیں اس قدر تعارض ہے کہ ایک ذرّہ ہم اُن میں سے شہادت کے طورپر نہیں لے سکتے۔
ضروؔ ر تھا کہ مسیح دجّال گرجا میں سے ہی نکلے
ہم بیان کرآئے ہیں کہ مسیح دجّال کی تعیین و تشخیص میں اسلام کے قرن اوّل کے بزرگوں میں اختلاف رہا ہے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم قطعی اور یقینی طورپر ابن صیّاد کو مسیح دجّال سمجھ بیٹھے تھے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو قسم کھا کر کہا کہ الدجّال یہی ہے یعنی مسیح دجّال۔ کیونکہ الدجّال بجُز مسیح دجّال کے اور کسی کو نہیں کہاجاتا۔ ایسا ہی ابن عمرؓ نے بھی صریح لفظوں میں کہا کہ مسیح الدجّال یہی ہے۔ اور ہم پہلے اس سے تحریر کر چکے ہیں کہ بعض احادیث سے ثابت ہوتاہے کہ ابن صیّاد مسلمان ہونے کے بعد مدینہ میں فوت ہوگیااورمسلمانوں نے اس کا جنازہ پڑھا۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ وہ گم ہوگیا مگر قول اوّل ارجح ہے کیونکہ فوت کی خبر میں زیادت علم ہے جوموجب قطع ویقین ہے۔ بہرحال جبکہ مسلم کی حدیث سے ابن صیّاد کااسلام ثابت ہے اور ارتداد