میں کئی بار لکھ چکا ہوں اورپھر بھی لکھتا ہوں کہ اہل کشف کے نزدیک یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مقدّس اور راستباز لوگ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوجایا کرتے ہیں اور ایک قسم کاانہیں جسم نورانی مل جاتاہے اور اس جسم کے ساتھ وہ آسمان کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں اور بعض احادیث میں آیاہے کہ بعد موت کے اکثر مدّت مقدس لوگوں کی زمین پر رہنے کی چالیس دن ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کوئی نبی فوت ہونے کے بعد چالیس دن سے زیادہ زمین پر نہیں ٹھہرتا بلکہ اس عرصہ کے اندراندر آسمان کی طرف اُٹھایا جاتاہے۔ چنانچہ خوداپنی نسبت آنجنابؐ فرماؔ تے ہیں کہ مجھے ہرگز امید نہیں کہ خدائے تعالیٰ چالیس دن سے زیادہ مجھ کو قبر میں رکھے۔سو سمجھنا چاہیئے کہ آسمان کی طرف مع الجسد اُٹھایا جانا حضرت مسیح کا جس کی نسبت کیا عیسائی اور کیا مسلمان شور مچا رہے ہیں دراصل یہی معنے رکھتاہے اور اس بارے میں مسیح کی کچھ بھی خصوصیت نہیں ہر یک مقدس اور کامل راستباز کا رفع اسی طرح ہوتا ہے۔اور یہ امر اہل کشف کے نزدیک مسلّمات اور مشاہدات میں سے ہے قرآن کریم میں مسیح کے رفع کا ذکر اس کی راستبازی کی تصدیق کے لئے ہے۔اور مسیح کے شاگردوں کو جو کشفی طورپر اس کا اُٹھایا جانا دکھایاگیا یہ اُن کی تقویتِ ایمان کے لئے تھا۔ کیونکہ اس وقت کے مولویوں اورفقیہوں کی طرح اس وقت کے فقیہوں اورفریسیوں نے بھی حضرت مسیح پر کفرکا فتویٰ لگایا تھا اور قریب تھا کہ وہ لوگ اپنی مکاریوں سے بہت سے شبہات دلوں میں ڈال دیتے لہذا خداوندکریم نے مسیح کے شاگردوں کی کشفی آنکھ کھول دی اور انہوں نے دیکھا کہ وہ خاص مقرّبوں کی طرح آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔ اگر یہ کشف نہ ہوتا تو نامحرم اور بدعقیدہ بیگانہ لوگ بھی اس حالت کودیکھتے کیونکہ وہ کوئی ایسی جگہ نہیں تھی کہ جہاں دوسروں کیؔ آمدورفت حرام تھی۔ پس بیگانے لوگ جو آیندروند تھے صرف اسی وجہ سے نہیں دیکھ سکے کہ وہ ایک کشفی امر تھااور پھر اخیر میں گیارہ آیت میں جو لکھا ہے جو فرشتوں نے جو وہاں کھڑے تھے یہ کہا کہ اے گلیلی مردو! یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر