کہ بعد فوت ہوجانے کے کشفی طورپر مسیح چالیس دن تک اپنے شاگردوں کو نظر آتا رہا۔اس جگہ کوئی یہ نہ سمجھ لیوے کہ مسیح بوجہ مصلوب ہونے کے فوت ہوا۔کیونکہ ہم ثابت کرآئے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے صلیب سے مسیح کی جان بچائی تھی بلکہ یہ تیسری آیت باب اول اعمال کی مسیح کی طبعی موت کیؔ نسبت گواہی دے رہی ہے جو گلیل میں اس کو پیش آئی۔ اس موت کے بعد مسیح چالیس دن تک کشفی طورپر اپنے شاگردوں کو نظرآتا رہا۔ جو لوگ کشف کی حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ ایسے مقامات میں بڑا دھوکہ کھاتے ہیں۔ اِسی وجہ سے حال کے عیسائی بھی جو روحانی روشنی سے بے بہرہ ہیں اس عالم کشف کو درحقیقت عالم جسمانی سمجھ بیٹھے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مقدّس اور راستباز لوگ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوجایا کرتے ہیں اوراکثر صاف باطن اور پُرمحبت لوگوں کو عالمِ کشف میں جو بعینہٖ عالم بیداری ہے نظر آجایا کرتے ہیں۔ چنانچہ اس بارہ میں خود یہ عاجز صاحبِ تجربہ ہے۔ بارہا عالم بیداری میں بعض مقدّس لوگ نظر آئے ہیں۔ اور بعض مراتب کشف کے ایسے ہیں کہ میں کسی طور سے کہہ نہیں سکتا۔کہ اُن میں کوئی حصہ غنودگی یاخواب یا غفلت کا ہے بلکہ پورے طورپر بیداری ہوتی ہے اور بیداری میں گذشتہ لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے اور باتیں بھی ہوتی ہیں۔ یہی حال حواریوں کی رویت کا ہے جو انہیں کشفی طور پر مسیح ابن مریم مرنے کے بعد جبکہ وہ جلیل میں جا کر کچھ عرصہ کے بعد فوت ہوگیا چالیس دن برابر نظرآتا رہااور انہوں نے اس کشفی حالت میں صرف مسیح کوؔ نہیں دیکھا بلکہ دوفرشتے بھی دیکھے جو سفید پوشاک پہنے ہوئے کھڑے تھے۔ جس سے اور زیادہ ثابت ہوتاہے کہ وہ کشف کا ہی عالم تھا۔ انجیل میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے کشفی طور پر حضرت موسیٰ اور حضرت یحییٰ کوبھی خواب میں دیکھا تھا۔ غرض اعلیٰ درجہ کا کشف بعینہٖ عالم بیداری ہوتاہے اور اگر کسی کو اس کوچہ میں کچھ دخل ہو تو ہم بڑی آسانی سے اس کو تسلیم کرا سکتے ہیں مگر محض بیگانوں اور بے خبروں کے مقابل پر کیا کیا جائے۔