نورؔ افشاں مطبُوعہ ۲۳ ؍ اپریل کا اعتراض پرچہ نور افشان میں مسیح کے صعود کی نسبت یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ مسیح کے صعود کی نسبت گیارہ شاگرد بچشم دید گواہ موجود ہیں جنہوں نے اُسے آسمان کو جہاں تک حد نظر ہے جاتے دیکھا۔ چنانچہ معترض صاحب نے اپنے دعوے کی تائیدمیں رسولوں کے اعمال باب اوّل کی یہ آیتیں پیش کی ہیں ۔ (۳) اُن پر (یعنی اپنے گیارہ شاگردوں پر )اُس نے (یعنی مسیح نے ) اپنے مرنے کے پیچھے آپ کو بہت سی قوی دلیلوں سے زندہ ثابت کیا کہ وہ چالیس دن تک انہیں نظر آتا رہا اور خداکی بادشاہت کی باتیں کہتا رہا۔ اور اُن کے ساتھ ایک جا ہوکے حکم دیا کہ یروشلم سے باہر نہ جاؤ...اورؔ وہ یہ کہہ کے اُن کے دیکھتے ہوئے اُوپر اُٹھایا گیا اور بدلی نے اُن کی نظروں سے چھپا لیا۔ اور اس کے جاتے ہوئے جب وے آسمان کی طرف تک رہے تھے دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ہوئے اُن کے پاس کھڑے تھے (۱۱) اور کہنے لگے اے جلیلی مردو تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے اُسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان کو جاتے دیکھا پھر آوے گا۔ اب پادری صاحب صرف اس عبارت پر خوش ہوکر سمجھ بیٹھے ہیں کہ درحقیقت اِسی جسم خاکی کے ساتھ مسیح اپنے مرنے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔ لیکن انہیں معلوم ہے کہ یہ بیان لوقاکا ہے جس نے نہ مسیح کودیکھا اور نہ اُس کے شاگردوں سے کچھ سُنا۔ پھر ایسے شخص کا بیان کیوں کر قابل اعتبار ہوسکتا ہے جو شہادت رویت نہیں اور نہ کسی دیکھنے والے کے نام کا اُس میں حوالہ ہے۔ ماسوا اس کے یہ بیان سراسر غلط فہمی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہوگیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہوچکا تھا پھر زندہ ہوگیا۔ بلکہ اسی باب کی تیسری آیت ظاہر کررہی ہے