نصوص بیّنہ کے مخالف صریح پڑی ہوئی ہے صحیح بھی مان لیں اور اس کے معنے کو ظاہر پر ہی حمل کریں تو ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی ہوجو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔ کیونکہ اس حدیث کی رو سے کہ جو علماء امّتی کا نبیاء بنی اسرائیل ہے مثیلوں کی کمی نہیں اور ایساہی یہ آیت کریمہ بھی مثیلوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے 33۔3 ۱؂ اور نیز قرائن قویہ کی وجہ سے بفرض صحت اس کو ایک استعارہ تسلیم کر کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ ایک اشارہ معیّت اور اتحاد کی طرف ہے۔ مثلًا جو دشمن ہو اس کے لئے انسان کہتاہے کہ اس کی قبر بھی میرے نزدیک نہ ہو۔ لیکن دوست کے لئے قبرکا بھی ساتھ چاہتا ہے اور مکاشفات میں اکثر ایسے امور دیکھے جاتے ہیں۔ ایک مدّت کی بات ہے جو اس عاجز نے خواب میں دیکھا جو آؔ نحضرتْ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ پر میں کھڑاہوں اورکئی لوگ مر گئے ہیں یا مقتول ہیں ان کو لوگ دفن کرنا چاہتے ہیں۔اِسی عرصہ میں روضہ کے اندر سے ایک آدمی نکلا اور اس کے ہاتھ میں ایک سرکنڈہ تھا اور وہ اس سرکنڈہ کو زمین پر مارتا تھا اور ہریک کو کہتا تھا کہ تیری اس جگہ قبر ہوگی۔ تب وہ یہی کام کرتا کرتا میرے نزدیک آیا اور مجھ کو دکھلا کر اور میرے سامنے کھڑا ہو کر روضۂ شریفہ کے پاس کی زمین پر اس نے اپنا سرکنڈہ مارا اور کہاکہ تیری اس جگہ قبر ہوگی۔ تب آنکھ کھل گئی اور میں نے اجتہاد سے اس کی یہ تاویل کی کہ یہ معیّت معادی کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ جو شخص فوت ہونے کے بعد روحانی طورپر کسی مقدّس کے قریب ہوجائے تو گویا اس کی قبر اس مقدس کی قبر کے قریب ہو گئی۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ وَعِلْمُہٗ اَحْکَمُ