حسب اپنے مرتبہ کے رہائش اختیارکرتا ہے سو کیوں مسیح کے اُٹھائے جانے کا ایک نرالا مسئلہ بناویں۔ ہم قبول کرتے ہیں کہ وہ ایک نورانی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھایاگیا جیساکہ اَور نبی اُٹھائے گئے۔ اس کو نورانی جسم دیا گیا تبھی تو وہ کھانے اورپینے اور پاخانہ اور پیشاب کرنے کا محتاج نہ ہؤا۔ اگر یہ کثیف اور خاکی جسم ہوتا تو آسمان پر اس کے لئے ایک باورچی خانہ اور ایک پاخانہ بھی چاہیئے تھا کیونکہ اس خاکی جسد کے لئے خدائے تعالیٰ نے یہ تمام ضروری امورٹھہرائے ہیں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات بیّنات سے ظاہرہے۔
اےؔ حضرات مولوی صاحبان جبکہ عام طورپر قرآن شریف سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے اور ابتداء سے آج تک بعض اقوال صحابہ اور مفسّرین بھی اس کو مارتے ہی چلے آئے ہیں تو اب آپ لوگ ناحق کی ضد کیوں کرتے ہیں کہیں عیسائیوں کے خداکو مرنے بھی تو دو۔ کب تک اس کو حیّ لایموت کہتے جاؤ گے کچھ انتہا ء بھی ہے پھر اگر آپ محض ضد کی راہ سے یہ کہیں کہ مسیح ابن مریم فوت تو ضرور ہوگیا تھا مگر اُسی خاکی جسم میں اُس کی روح آگئی۔ تو کیا اس کا کوئی ثبوت بھی ہے۔ ماسوا اس کے اس صورت میں دوموتیں اس کے لئے تجویز کروگے۔ یہ کہاں لکھا ہے اور کس کی ہدایت ہے کہ خدائے تعالیٰ موتت اُولٰی پر کفایت نہ کرے اورسارے جہان کے لئے ایک موت اور مسیح ناکردہ گناہ پر دوموتوں کی تکلیف نازل ہو۔ کیا کوئی حدیث ہے یا قرآن شریف کی آیت ہے جو اِن دوموتوں کے بارے میں آپ کے پاس ہے۔ یوں تو آپ حضرت مسیح کی لاش کو بڑی عزت کے ساتھ دفن کرنا چاہتے ہیں جبکہ کہتے ہیں کہ حضرت سیّدنا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں دفن کئے جائیں گے لیکن یہ خیال نہیں کرتے کہ یہ دوسری موت اُن ؔ کے لئے کس سخت گناہ کا پاداش ہوگی۔ اور واضح رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں اُن کا آخری زمانہ میں دفن ہونا یہ اس بات کی فرع ہے کہ پہلے اُن کا اسی جسم خاکی کے ساتھ زندہ اُٹھایاجانا ثابت ہو۔ورنہ فرض کے طور پر اگر اس حدیث کوجو