مجرّد کر کے کسی ایک معنی سے مخصوص کرلیتے ہیں۔مثلًا طبابت کے فن کو دیکھئے کہ بعض الفاظ جو کئی معنے رکھتے تھے صرف ایک معنے میں اصطلاحی طور پر محصورو محدود رکھے گئے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ کوئی علم بغیر اصطلاحی الفاظ کے چل ہی نہیں سکتا۔ پس جو شخص الحاد کا ارادہ نہیں رکھتا اس کے لئے سیدھی راہ یہی ہے کہؔ قرآن شریف کے معنے اس کے مروّجہ اور مصطلحہ الفاظ کے لحاظ سے کرے ورنہ تفسیر بالرائے ہوگی۔ اگر یہ کہا جائے کہ اگر تَوَفّی کے معنے الفاظ مروّجہ قرآن میں عام طور پر قبض روح ہی ہے تو پھر مفسّروں نے اس کے برخلاف اقوال کیوں لکھے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ موت کے معنے بھی تو وہ برابر لکھتے چلے آئے ہیں۔اگر ایک قوم کا ان معنوں پر اجماع نہ ہوتا تو کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک جو تیرہ سو برس گذر گئے یہ معنے تفسیروں میں درج ہوتے چلے آئے۔ سو اِن معنوں کا مسلسل طورپر درج ہوتے چلے آنا صریح اس بات پر دلیل ہے کہ صحابہ کے وقت سے آج تک ان معنوں پر اجماع چلا آیا ہے۔ رہی یہ بات کہ پھر دوسرے معنے انہیں تفسیروں میں کیوں لکھے گئے۔اس کاجواب یہ ہے کہ وہ بعض لوگوں کی غلط رائے ہے اور اس رائے کی غلطی ثابت کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ رائے سراسرقرآن شریف کے منشاء کے برخلاف ہے اور نیز یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اُ ن میں سے بعض وہ لوگ بھی ہیں جو خیال کرتے ہیں جو حضرت عیسیٰ تین گھنٹہ یا سات گھنٹہ یا تین دن تک مُردہؔ رہے اورپھر آسمان کی طرف زندہ کرکے اُٹھائے گئے۔اوراس رائے پر ادنیٰ نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنہوں نے ابتداء میں یہ رائے قائم کی ہے اُن کا یہ منشاء ہو گا کہ جیسا کہ بعض حدیثوں میں آیا ہے اور مولوی عبد الحق صاحب دہلوی نے بھی اس بارے میں اپنی کتابوں میں بہت کچھ لکھاہے اور متصوّفین بھی اس کے قائل ہیں کہ جب کوئی مقدّس اور راستباز بندہ فوت ہوجائے توپھر وہ زندہ کیا جاتاہے۔اور قدرت حق سے ایک قسم کا اس کو جسم نورانی عطاہوتاہے اور وہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر