اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَکے کیا معنے نکلتے ہیں تو پہلے بسم اللہ کر کے ابن عباس سے یہی حدیث نکلتی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہوچکے ہیں۔پھر قرآن اور حدیث سے قطع امید کرکے عقل کی طرف دوڑتے ہیں تو عقل ایک روشن دلیل کا طمانچہ مار کر دوسری طرف مُنہ پھیر دیتی ہے اورپھر کانشنس اور نور قلب کی طرف آتے ہیں تو وہ اپنے نزدیک آنے سے دھکّے دیتا ہے۔ پس اس سے زیادہ محرومی کیا ہوگی کہ کوئی اِن لوگوں کو قبول نہیں کرتا اور کسی جگہ اپنے مورچے باندھ نہیں سکتے۔
بعض چالاکی سے قرآن شریف کے کھلے کھلے ثبوت پر پردہ ڈالناچاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توفّیکا لفظ لغت کی کتابوں میں کئی معنوں پر آیا ہے حالانکہ اپنے دلوں میں خوب جانتے ہیں کہ جن لفظوں کو قرآن شریف اصطلاحی طور پر بعض معانی کے لئے خاص کرلیتا ہے اور اپنے متواتر بیان سے بخوبی سمجھادیتاہے کہ فلاں معنے کے لئے اُسؔ نے فلاں لفظ خاص کررکھا ہے اس معنی سے اس لفظ کو صرف اس خیال سے پھیرنا کہ کسی لغت کی کتاب میں اس کے اَور معنے بھی آئے ہیں صریح الحاد ہے۔ مثلًا کتب لغت میں اندھیری رات کا نام بھی کافر ہے مگر تمام قرآن شریف میں کافرکالفظ صرف کافرِ دین یا کافر نعمت پر بولا گیا ہے۔اب اگر کوئی شخص کفر کا لفظ الفاظ مروّجہ فرقان سے پھیر کر اندھیری رات اس سے مراد لے اوریہ ثبوت دے کہ لغت کی کتابوں میں یہ معنے بھی لکھے ہیں تو سچ کہو کہ اُس کا یہ مُلحدانہ طریق ہے یا نہیں ؟ اسی طرح کتب لغت میں صوم کا لفظ صرف روزہ میں محدود نہیں بلکہ عیسائیوں کے گرجا کا نام بھی صوم ہے اور شترمرغ کے سرگین کو بھی صوم کہتے ہیں۔لیکن قرآن شریف کی اصطلاح میں صوم صرف روزہ کانام ہے۔ اور اسی طرح صلوٰۃ کے لفظ کے معنے بھی لغت میں کئی ہیں مگر قرآن شریف کی اصطلاح میں صرف نماز اَور درود اور دعاکا نام ہے۔ یہ بات سمجھنے والے جانتے ہیں کہ ہر یک فن ایک اصطلاح کا محتاج ہوتاہے اور اہل اس فن کے حاجات کے موافق بعض الفاظ کو متعدد معنوں سے