مسیح کے اُترنے کے لئے دعامنظور نہ ہو تو صاف ثابت ہوگا کہ وہ دعا تحصیل حاصل میں داخل ہے اسی وجہ سے منظور نہیں ہوئی۔ ہمارے دوست مولوی ! ابو سعید محمد حسین صاحب اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ میں عقلی طورپر اس امر (وفاتِ مسیح ) کو ثابت کر دکھاؤں گا مگر کچھ معلوم نہیں ہوا کہ مولوی صاحب کی عقلی طورسے کیا مرادہے۔کیا بیلون میں آسمان کی طرف چڑھ کر ناظرین کو کوئی تماشہ دکھانا چاہتے ہیں۔ حضرت مولوی صاحب کو لازم ہے کہ عقلی طورکا نام نہ لیں تا نئے فلسفہ والے ان کے گرد نہ ہوجائیں بلکہ یہ کہا کریں کہ جو شخصؔ عقل کا نام لے وہ کافر ہے۔ اگر کوئی دن ایسے ہی اعتقاد کے ساتھ گذارہ کرنا ہے تو بجز تکفیر کے اور کوئی کار آمد حربہ نہیں۔ لیکن ہمارا تو اس بات پر ایمان ہے کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کے وجود میں عقل کو بھی بیکار پیدا نہیں کیا اوراگر مسلمانوں کے دوفریق میں سے جو کسی جُزئی مسئلہ پر جھگڑتے ہیں اور باہم اختلاف رکھتے ہیں ایک فریق ایسا ہے کہ علاوہ دلائل شرعی اور نصوص قرآن اور حدیث کے عقل کو بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے تو بلاشبہ وہی فریق سچاہے کیونکہ اس کی تائید دعویٰ کے لئے گوا ہ بہت ہیں۔سو اب دیکھنا چاہیئے کہ مسیح کی وفات کے بارے میں کیسے قرآن کریم اور حدیث اورعقل اور تجربہ ہمارا مؤید ہو رہا ہے۔لیکن ہمارے مخالفین کو اِن تمام شواہد میں سے کوئی مدد نہیں دیتا۔قرآن کریم کے سامنے جاتے ہیں تو قرآن کریم کہتا ہے کہ چل دُورہو۔ میرے خزانہ حکمت میں تیرے خیال کے لئے کوئی مؤید بات نہیں۔ پھر وہاں سے محروم ہو کر حدیثوں کی طرف آتے ہیں تو حدیثیں کہتی ہیں کہ اے سرکش قوم یکجائی نظرسے ہمیں دیکھ اورمومن ببعض اور کافر ببعض نہ ہو۔ تاتجھے معلوم ہو کہ میں قرآن کریم کے مخالف نہیں۔ پھر ؔ حدیثوں سے نومید ہو کر سلف و خلف کے اقوال متفرقہ کی طرف آتے ہیں تو اُن کو کسی ایک خاص شق پر قائم نہیں دیکھتے بلکہ تفسیروں کو رطب ویابس کا ذخیرہ پاتے ہیں اور جب دیکھنا چاہتے ہیں کہ مبسوط تفسیروں میں