ہونے کی وجہ سے مباہلہ کے لئے نہیں بُلاتے کیونکہ اگر اختلافات باہمی کی وجہ سے مسلمانوں کا باہم مباہلہ جائز ہو تو ا س کا نتیجہ یہ ہو کہ مسلمانوں پر عذاب نازل ہونا شروع ہوجائے اور بجُز کسی خاص فر د کے جو بکلّی خطا سے خالی ہو تمام مسلمانؔ نیست ونابو د کئے جائیں۔ سو خدائے تعالیٰ کا یہ ارادہ نہیں اس لئے صرف اختلافات کی بناء پر مباہلہ بھی جائز نہیں۔ہاں اگر ہمارے مخالف اپنے تئیں سچ پر سمجھتے ہیں اور اس بات پر سچ مچ یقینی طورپر ایمان رکھتے ہیں کہ درحقیقت وہی مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا جس پر انجیل نازل ہوئی تھی تو اس فیصلہ کے لئے ایک یہ بھی عمدہ طریق ہے کہ وہ ایک جماعت کثیر جمع ہو کر خوب تضرّع اور عاجزی سے اپنے مسیح موہوم کے اُترنے کے لئے دعا کریں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ جماعت صادقین کی دعا قبول ہوجاتی ہے بالخصوص ایسے صادق کہ جن میں ملہم بھی ہوں۔ پس اگر وہ سچے ہیں تو ضرور مسیح اُتر آئے گا اور وہ دعابھی ضرور کریں گے اور اگر وہ حق پر نہیں اور یادرہے کہ وہ ہرگز حق پر نہیں ہیں تو دعا بھی ہرگز نہیں کریں گے کیونکہ وہ دلوں میں یقین رکھتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوگی۔ ہاں ہماری اس درخواست کو کچّے بہانوں سے ٹال دیں گے تاایسانہ ہوکہ رُسوائی اُٹھا نی پڑے۔ اور اگر کوئی کہے کہ اہل حق کی دعا اہل باطل کے مقابل پر قبول ہونی ضروری نہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ ہندؤں کے مقابل پر مسلمانوں کی دعا قیامت کے بارہ میں قبول ہو کر ابھی قیامت آجائے۔ اسؔ کا جواب یہ ہے کہ یہ مقرر ہوچکا ہے کہ قیامت سات ہزاربرس گذرنے سے پہلے واقع نہیں ہو سکتی۔ اور ضرور ہے کہ خدااُسے روکے رہے جب تک وہ ساری علامتیں کامل طورپر ظاہر نہ ہوجائیں جو حدیثوں میں لکھی گئی ہیں۔ لیکن مسیح کے ظہورکا وقت تو یہی ہے۔جس کی نسبت اُس مولوی مرحوم نے بھی شہادت دی ہے جس کا مجدّد ہونا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تصدیق کر چکے ہیں اور وہ تمام علامتیں بھی پیداہوگئی ہیں جن کا مسیح کے وقت پیدا ہوناضروری تھا۔ جیسا کہ اسی رسالہ میں ہم نے ثابت کردیا ہے۔ پھر اگر اب بھی