بجُز اوہام کے اَور کچھ بھی نہیں اور وہ ہر طرف سے شکست کھا کر بار باریہ وہم پیش کرتے ہیں کہ ابن مریم کا اُترنا کتابوں میں لکھاہوا ہے اور ہماری اس بات کوسمجھ نہیں سکتے کہ کیا خدائے تعالیٰ باعتبار بعض صفات خاصہ کے کسی دوسرے کانام ابن مریم نہیں رکھ سکتا۔ تعجب کہ آپ توہمیشہ اپنی اولاد کے پیغمبروں کے نام رکھتے ہیں بلکہ ایک ایک نام میں دودو پیغمبروں کے نام ہوتے ہیں جیسے محمدیعقوب،محمدابراہیم،محمد مسیح، محمد عیسیٰ، محمد اسمٰعیل،احمد ہارون۔ لیکن اگر خدائے تعالیٰ کسی اپنے بندہ کو اِن ناموں میں سے کسی نام کے ساتھ پکارے یا ان نبیوں کے ناموں اور کُنیتوں میں سے کوئی نام یا کنیت کسی اپنے مامورکو عطاکرے تو یہ کفرسمجھتے ہیں گویا جوکام انہیں کرناجائز ہے وہ خدائے تعالیٰ کو کرنا جائز نہیں۔نہیں دیکھتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماگئے ہیں کہ اس اُمت میں مثیل انبیاء بنی اسرائیل آئیںؔ گے تو کیا ضروری نہ تھاکہ وہ مثیل دنیا میں آتے۔ پھر اگر خدائے تعالیٰ نے مثیل مسیح ہونے کی وجہ سے کسی کا نام ابن مریم رکھ دیا تو کیا برا کیا۔اور قرینہ ظاہرہے کہ فوت شدہ تو دوبارہ دنیامیں نہیں آسکتااور نہ خدائے تعالیٰ انبیاء پر دوموتیں واردکرتا ہے اور اس کا حکم بھی ہے کہ جو شخص اس دنیا سے گیا وہ گیا۔ جیسا کہ وہ فرماتاہے33 ۱ یعنی جس پر موت وارد کی گئی وہ پھرکبھی دنیا میں آنہیں سکتا۔اور پھر فرمایا 33 ۲۔یعنی بہشتیوں پر دوسری موت نہیں آئے گی۔ ایک موت جو آ چکی سو آچکی۔ اب جو لوگ کہتے ہیں کہ مسیح جو مرگیا کیا خدائے تعالیٰ قادر نہیں کہ اس کو پھر زندہ کر کے بھیجے گویا اُن کے نزدیک مسیح بہشتی نہیں جو اس کے لئے دو موتیں تجویز کرتے ہیں۔حضرات اپنی بات کی ضد کے لئے مسیح کو بار بار کیوں مارنا چاہتے ہو اس کا کونسا گناہ ہے جو اس پر دوموتیں آویں اورپھر ان دوموتوں کا حدیث اور قرآن کی رُو سے ثبوت کیا ہے۔ کچھ پیش توکرو۔ اور اگر اب بھی ہمارے مخالف الرائے مولوی صاحبان ماننے میں نہیں آتے تو ہم انہیں مخطی